رسائی کے لنکس

مولانا عزیز کے بیان پر انسانی حقوق کمیشن کی تشویش

  • عشرت سلیم

عبدالعزیز (بائیں) فائل فوٹو

عبدالعزیز (بائیں) فائل فوٹو

گزشتہ ہفتے عبدالعزیز نے ملک میں قرآن اور سنت کے قیام کے لیے مہم کے آغاز کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت کی طرف سے انہیں تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ اس قسم کی سرگرمیوں سے دور رہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کی چیئر پرسن زہرہ یوسف نے لال مسجد کے سابق خطیب عبدالعزیز کی طرف سے شریعت کے نفاذ کے لیے مہم کے اعلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیئے۔

وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں زہرہ یوسف کا کہنا تھا کہ عبدالعزیز کو اظہار رائے اور نقل و حمل کی مکمل آزادی ہے جبکہ ملک میں بہت سے لوگوں کو یہ آزادی حاصل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عبدالعزیز ماضی میں ایسے متعدد بیانات دے چکے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ریاست پاکستان کو برملا چیلنج کر رہے ہیں۔

’’تعجب ہے کہ حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے بلکہ جنرل مشرف جنہوں لال مسجد کے خلاف کارروائی کی تھی ان پر اس کیس میں مقدمہ چل رہا ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتے عبدالعزیز نے ملک میں قرآن اور سنت کے قیام کے لیے مہم کے آغاز کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت کی طرف سے انہیں تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ اس قسم کی سرگرمیوں سے دور رہیں۔

مگر اس کے جواب میں انہوں نے اتوار کی رات ایک بیان اور ایک وڈیو جاری کی جس میں انہوں نے ناصرف اپنے عزم کا اعادہ کیا بلکہ ایک کمیٹی کے قیام کا مطالبہ بھی کیا جو ملکی قوانین کا جائزہ لے کہ وہ اسلامی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے فوج سمیت سرکاری ملازمین پر بھی زور دیا کہ وہ اس کوشش میں ان کا ساتھ دیں۔

زہرہ یوسف کے بقول عوام کی ملکی نظام سے بددلی کا فائدہ اٹھا کر عبدالعزیز جیسے افراد شریعت کے نام پر ان کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، لہٰذا ان کے بیانات کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیئے۔

یاد رہے کہ 2006 میں لال مسجد سے وابستہ مدرسوں کے طلبا و طالبات نے شریعت کے نام پر مسجد سے ملحقہ ایک لائبریری پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد اپنی سرگرمیوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے نہ صرف مقامی تاجروں اور پولیس کے اہلکاروں کو زدو کوب کیا بلکہ چند غیر ملکی باشندوں کو مبینہ طور پر غیر اخلاقی سرگرمیوں کی وجہ سے یرغمال بنایا۔

حکومت نے مذاکرات کے ذریعے ان کارروائیوں کو روکنے کی کوشش کی مگر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد جولائی 2007ء میں اس مسجد کے خلاف بھرپور آپریشن کیا گیا جس میں کم ازکم ایک سو افراد ہلاک ہوئے جب کہ فوج کے ایک کرنل سمیت دس اہلکار بھی مارے گئے۔

حکام کے مطابق اس مدرسے میں بڑی مقدار میں اسلحے کے علاوہ چند غیر ملکی شدت پسند بھی موجود تھے۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق وفاقی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے ادروں اور خفیہ ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ عبدالعزیز کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں کیونکہ ان سے نقض امن کا شدید خطرہ لاحق ہے۔

XS
SM
MD
LG