رسائی کے لنکس

اسرائیل غزہ میں رسائی کے لیے 'رکاوٹ' ڈال رہا ہے: رپورٹ


فائل فوٹو

اسرائیل ایک عرصے سے ہیومن رائٹس واچ پر یہ الزام عائد کرتا آیا ہے کہ وہ اس کے بارے میں جانبدار رویہ رکھتا ہے۔

انسانی حقوق کی موقر بین الاقوامی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانچ کے لیے آنے والے غیر ملکی مبصرین کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔

پیر کو جاری کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں تنظیم کا کہنا تھا کہ یہ قدغن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے اسرائیل کے عزم پر سوالیہ نشان ہے۔

تنظیم نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ 2008ء سے اس کے تحقیق کاروں کو غزہ میں داخلے سے "منظم طریقے سے" روکتا آ رہا ہے اور صرف گزشتہ سال ہی انھیں ایک خصوصی اجازت نامہ تفویض کیا گیا۔

تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ مصر نے بھی 2012ء سے لندن میں قائم "ایمنسٹی انٹرنیشنل" کو بھی غزہ میں داخلے سے روک رکھا ہے۔

غزہ تقریباً 20 لاکھ آبادی کا شہر ہے اور 2007ء میں حماس کے عسکریت پسندوں کی طرف سے کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد سے اسرائیل اور مصر دونوں نے ہی غزہ کے لیے راستہ بند کر رکھا ہے۔

حماس گروپ نے اسرائیل کو تباہ کرنے کا عہد کر رکھا ہے اور اب تک اس کی اسرائیل سے تین لڑائیاں بھی ہو چکی ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں لڑائی کے دونوں فریقین پر جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کا الزام عائد کرتی آئی ہیں جب کہ جرائم کے لیے عالمی عدالت بھی فریقین کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کی ابتدائی تحقیقات کروا رہی ہے۔

اسرائیل ایک عرصے سے ہیومن رائٹس واچ پر یہ الزام عائد کرتا آیا ہے کہ وہ اس کے بارے میں جانبدار رویہ رکھتا ہے۔ گزشتہ ماہ ہی اسرائیل نے اس تنظیم کے ایک ڈائریکٹر کو اپنے ہاں کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن بعد ازاں انھیں صرف اسرائیل میں بطور سیاح دورہ کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

غزہ کے لیے رسائی کی معاونت کرنے والی اسرائیلی محکمہ دفاع کی یونٹ "کوگاٹ" ان الزامات کو مسترد کرتی ہے کہ انسانی حقوق کے مبصرین کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

ایک بیان میں اس کا کہنا تھا کہ روزانہ ایک ہزار سے زائد افراد کو مختلف مقاصد بشمول کاروبار، طبی علاج اور تعلیم کے لیے سرحد پار جانے کی اجازت دی جاتی ہے، اور یہ تمام آمدورفت سکیورٹی کی ضروریات کے مطابق کی ہوتی ہے۔

"ہم انسانی حقوق کی بہت سے تنظیموں کو سرحد پار کرنے میں معاونت فراہم کرتے ہیں، مثال کے طور پر ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کو دی گئی۔"

کوگاٹ یہ الزام عائد کرتی ہے کہ حماس غزہ کے شہریوں کو اسرائیل میں عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے ان کا استحصال کرتا ہے جس سے غزہ کے شہریوں کی مدد کرنے کے ہمارے عزم اور اسرائیل کے شہریوں کے تحفظ کے ہمارے فرض میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG