رسائی کے لنکس

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف یہ یقینی بنائیں کہ یہ قانون واپس لیا جائے اور اس کی جگہ ایک ایسا قانون بنایا جائے جو انسداد دہشت گردی کی جنگ میں بینادی انسانی حقو ق کا تحفظ کرے

تحفظ پاکستان بل 2014 کی پارلیمان سے منظوری پر انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے تنقید کی جارہی ہے جب کہ ایک موقر بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اسے بنیادی انسانی حقوق اور آزادی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے لیے پاس کیا گیا یہ بل پاکستان کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے بھی منافی ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی نے 2 جولائی کو تحفظ پاکستان بل منظور کیا تھا جب کہ اس سے پہلے ایوان بالا یعنی سینٹ نے بھی اس کی منظوری دے دی تھی۔

قبل ازیں میں سینیٹ نے اس بل کو یہ کہہ کر منظور کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ ممکنہ طور پر انسانی حقوق کے منافی ہوگا لیکن بعد ازاں اسے ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔

ا ب یہ بل صدر پاکستان ممنون حسین کے دستخط سے پاکستان میں نافذ ہو جائے گا۔

ہیومن رائٹس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ تحفظ پاکستان بل اپنی موجودہ شکل میں ممکنہ طور پر پرامن سیاسی حزب اختلاف اور حکومت پر تنتقید کو دبانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

ہیومِن رائٹس واچ کے ایشیائی امور کے ڈائریکٹر فیلِم کائن کا کہنا ہے کہ "انسداد دہشت گردی کا قانون ایک مبہم قانون ہے جس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اور زیر حراست مشتبہ افراد کے استحصا ل کا ذریعہ بنے گا جو پاکستان میں پہلے ہی سے عام ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "وزیراعظم نواز شریف یہ یقینی بنائیں کہ یہ قانون واپس لیا جائے اور اس کی جگہ ایک ایسا قانون بنایا جائے جو انسداد دہشت گردی کی جنگ میں بینادی انسانی حقو ق کا تحفظ کرے۔"

تحفظ پاکستان بل 2014ء کے تحت کسی بھی ملزم کو بغیر مقدمہ درج کیے ساٹھ دنوں تک سکیورٹی فورسز اپنی حراست میں رکھ سکیں گی جب کہ قانون نافذ کرنے والےاداروں کے گریڈ 15 سے اوپر کے کسی بھی افسر کو مشکوک شخص پر گولی چلانے کا حکم دینے کا اختیار ہو گا۔ اس افسر کو تحقیقات کے دوران اس حکم کی معقول وجہ بیان کرنا ہوگی۔

اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بغیر وارنٹ کے کسی بھی مشکوک جگہ کی تلاشی لے سکیں گے۔

ادھر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی جمعہ کو ایک بیان میں اس بل کو عوام کے حقوق پر بیہمانہ حملہ قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے جابرانہ ریاست کے نمونے کو دیدودانستہ اختیار کرنے کے عمل کی مذمت کی۔

پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک مرکزی رہنما راجہ ظفر الحق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کو درپیش سلامتی کے خطرات کے تناظر میں خصوصی قوانین کا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستان میں حزب مخالف کی سب سے بڑی پیپلز پارٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ پہلے پیش کیے جانے والے مسودہ قانون کی نسبت ترامیم کے ساتھ منظور ہونے والا بل نسبتاً بہتر ہے جس میں اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ قانون کے استعمال کی عدلیہ اور پارلیمنٹ نگرانی کر سکیں۔

XS
SM
MD
LG