رسائی کے لنکس

سعودی عرب پر یمن میں کلسٹر بم استعمال کرنے کا الزام


فائل

فائل

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق شواہد سے ظاہر ہورہا ہے کہ عرب ملکوں نے یمن میں جو کلسٹر بم برسائے ہیں وہ انہیں امریکہ نے فراہم کیے تھے۔

انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے سعودی عرب کی سربراہی میں تشکیل پانے والے عرب ملکوں کے اتحاد پر یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کے دوران ممنوع کلسٹر بم استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہورہا ہے کہ عرب ملکوں نے یمن میں جو کلسٹر بم برسائے ہیں وہ انہیں امریکہ نے فراہم کیے تھے۔

تنظیم کے مطابق کلسٹر بم جن علاقوں میں استعمال کیے جائیں وہاں تنازع کے خاتمے کے بعد بھی یہ "عام شہریوں کے لیے ایک مستقل خطرے کی حیثیت رکھتے ہیں"۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان بموں کی ہلاکت خیزی کے باعث 2008ء میں ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت 116 ملکوں نے ان کے استعمال پر پابندی عائد کردی تھی۔ لیکن سعودی عرب، یمن اور امریکہ نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے۔

'ہیومن رائٹس واچ' کے مطابق اسے 15 اپریل کے بعد سے کئی ایسی تصاویر، ویڈیو اور دیگر شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب ملکوں نے "حالیہ ہفتوں کے دوران" سعودی عرب کی سرحد سے متصل یمنی علاقے صعدۃ میں کلسٹر بم استعمال کیے ہیں۔

یمن کی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والے شیعہ حوثی باغیوں کا تعلق صعدۃ سے ہے جن کے خلاف 10 عرب ملکوں کی اتحادی فوج لگ بھگ ایک ماہ سے فضائی حملے کر رہی ہے۔

'ایچ آر ڈبلیو' نے کہا ہے کہ سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل کی جانے والی تصاویر کے جائزے کے بعد تنظیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ صعدۃ کے چار سے چھ دیہات کے نزدیک کھیتوں میں کلسٹر بم گرائے گئے ہیں۔

تنظیم کے مطابق جن کھیتوں میں یہ بم گرنے کے شواہد ملے ہیں وہ درجنوں رہائشی عمارتوں والے دیہات سے صرف 600 میٹر کی دوری پر ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے 'آرمز ڈائریکٹر' اسٹیو گوز کے مطابق عرب اتحاد کی جانب سے دیہات کے نزدیک کلسٹر بموں کی بمباری سے عام لوگوں کی زندگیاں خطرے کا شکار ہورہی ہیں۔

بیان مین اسٹیو گوز نے کہا ہے کہ کلسٹر بم کسی صورت بھی استعمال نہیں کیے جانے چاہئیں اور انہیں استعمال کرکے سعودی عرب اور اس کے اتحادی اور انہیں یہ بم فراہم کرنے والا امریکہ اس ضمن میں موثر بین الاقوامی ضابطوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق کلسٹر بم کئی چھوٹے چھوٹے بموں پر مشتمل ہوتے ہیں جو بم کے پھٹنے کے بعد آس پاس کے علاقے میں پھیل جاتے ہیں اور وہاں موجود لوگوں کو ہلاک یا زخمی کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

تنظیم کے مطابق کلسٹر بم سے نکلنے والے کئی چھوٹے بم فوری طور پر نہیں پھٹتے اور بارودی سرنگوں کی طرح علاقے میں بسنے والوں کے لیے ایک مستقل خطرہ بنے رہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG