رسائی کے لنکس

سری لنکا پاکستانی اقلیت کو ملک بدر نہ کرے: ہیومن رائٹس واچ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت جب پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف ایذا رسانی بڑھ رہی ہے کہ ان افراد کو ملک بدر نہ کیا جائے۔

انسانی حقوق کی ایک بین الاقومی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے سری لنکا سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہاں احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کو اس وقت تک ملک بدر نہ کرے جب تک اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) ان تک پوری طرح رسائی حاصل کر کے بین الاقوامی تحفظ کے لیے ان کی ضروریات کا تعین نہ کر لے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ سری لنکا کی پولیس نے مختلف چھاپوں کے دوران 142 پاکستانیوں کو حراست میں لیا جن میں اکثریت احمدیوں کی ہے اور انھیں ملک بدر کیے جانے کا خطرہ ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مہاجرین کے لیے ڈائریکٹر بل فریلک نے ایک بیان میں کہا کہ " سری لنکن حکام اس پاکستانی اقلیت کو ملک بدر کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ یہ سب ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستان میں ان گروپس (اقلیتوں) کے خلاف ایذا رسانی بہت بڑھ رہی ہے۔"

سری لنکا کی پولیس نے سلامتی کے خطرات کے پیش نظر نو جون کو مغربی ساحلی شہر نیگومبو میں چھاپہ مار کارروائیاں شروع کی تھیں۔ یہ شہر پاکستانی اقلیتوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔ 2013ء میں یو این ایچ سی آر نے یہاں پاکستانی اقلیت سے تعلق رکھنے والے تقریباً 1500 افراد کو رجسٹر کیا تھا۔

بل کا کہنا تھا کہ سری لنکن عہدیداروں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان اقلیتوں کے تحفظ میں ناکام رہا ہے۔

"سری لنکا کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے اور یو این ایچ سی آر کو ان لوگوں تک مکمل رسائی کی اجازت دی جائے تاکہ انھیں ملک بدری کےخطرے اور ایذا رسانی یا تشدد سے بچایا جاسکے۔"

پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان کہہ چکی ہیں کہ اس معاملے پر حکومت سری لنکا سے رابطے میں ہے۔

اُدھر پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے چیئرمین چوہدری بشیر محمود ورک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت کی یہ کوشش رہی ہے کہ ہر پاکستانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے چاہے اُس کا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو۔

XS
SM
MD
LG