رسائی کے لنکس

سال 2013 کے دوران پراپرٹی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہوا اور 12 ماہ کے دوران مزید 92 ہزار 985 گھروں کے مالکان ملینیئرز بن گئے یعنی ہر روز255 گھروں کے مالکان نے پراپرٹی ملینیئرز میں جگہ بنائی ۔

ایک جائزہ رپورٹ کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ برس جائیداد کی خریدو فروخت کی مارکیٹ میں گھروں کی قیمتوں میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ہزاروں لوگوں کےگھروں کی مالیت دس لاکھ پاؤنڈز سے تجاوز کرگئی ہے۔

ایک نامور برطانوی پراپرٹی ویب سائٹ ’زوپلا‘ کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ گذشتہ برس برطانیہ بھر میں گھروں کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا جہاں ہر روز255 گھروں کے مالکان نئےملینیئرز بننے والوں کی صف میں شامل ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2013 کے دوران پراپرٹی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہوا اور 12 ماہ کے دوران مزید 92 ہزار 985 گھروں کے مالکان ملینیئرز بن گئے۔


دارالحکومت لندن میں گذشتہ برس پراپرٹی ملینیئرز کلب میں شامل ہونے والوں کی تعداد 60 ,000 بتائی گئی ہے ۔

اس ویب سائیٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ میں ایک ملین کی مالیت سے زیادہ کے مکانات کی تعداد میں 31 فیصد اضافہ ہوا جس کے ساتھ برطانیہ میں ملین پونڈ سے زیادہ مالیت کے گھروں کی کل تعداد 3 لاکھ 93 ہزار 127 تک جاپہنچی ہے۔

قومی شماریات کے دفتر سے جاری ہونے والی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس رہن سہن پر اٹھنے والی لاگت کے مقابلے میں جائیداد کی قیمتوں میں کہیں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا حتیٰ کہ ، لندن کو اعداد و شمار کو فہرست سے خارج بھی کردیا جائے تو کل اضافے کی شرح 5.6فیصد رہی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں گھروں کی اوسطاً قیمت 248,000 بتائی گئی ہے۔

لندن اور جنوب مشرقی علاقے گھروں کی قیمتوں میں اضافے کے لحاظ سے بدستور شہ سرخیوں میں رہے جہاں لندن میں گزشتہ برس سب سے زیادہ اضافہ 11.6 ریکارڈ کیا گیا ۔
جبکہ لندن کے گھروں کی قیمتوں کا اوسطاً تخمینہ 441000 لگایا گیا ہے ۔

زوپلا کا کہنا ہے کہ مرکزی شہر لندن مہنگی ترین جائیداد رکھنے کے لحاظ سے سر فہرست رہا ایک ملین مالیت کے61 فیصد مکانات صرف لندن میں موجود ہیں ۔


علاوہ ازیں لندن کے 57,120 مکانات کی قیمتیں ایک ملین پاؤنڈ سے تجاوز کر چکی ہیں جس کا مطلب ہے کہ بارہ ماہ کے دوران یہاں ہر روز 156گھروں کے مالکان نئے ملینیر بننے والوں کی تعداد میں شامل ہوئے ۔

بتایا گیا ہے کہ وسطی لندن کے دو مہنگے ترین اضلاع 'کنزنگٹن اینڈ چیلسی' اور 'ویسٹ منسٹر' میں لندن کی ملین پاؤنڈ مالیت کی ایک تہائی جائیدادیں موجود ہیں ۔

سال 2013 میں لندن کے مکانات کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی لہر مشرقی لندن میں دیکھی گئی۔ والتھم فاریسٹ سمیت ہیکنی میں گھروں کی قیمتوں کے اضافے نے یہاں بسنے والے بہت سے ایشیائی خاندانوں کو ملین پاؤنڈ مالیت کے گھر کا مالک بنا دیا ہےخاص طور پر ہیکنی میں تقریباً نصف سے زیادہ مکانات ملین کی سطح کو چھو رہے ہیں ۔

مشرقی لندن میں پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ محمد علی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں حالیہ رجحان کے بارے میں کہا کہ مشرقی لندن کے مکانات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس دو سے تین بیڈ روم پر مشتمل ایک نارمل گھر کی قیمت اوسطاً 230,000۔تھی جو سال کے آخر میں 370,000سے 400,000 پاؤنڈ تک جا پہنچی ہیں اسی طرح ازلنگٹن میں مکانات کی قیمتیں ایک ملین پاؤنڈ کی بلند سطح کو چھو رہی ہیں ۔


پراپرٹی مارکیٹ میں تیزی کے رجحان کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ، حکومت نے پہلی بار گھر خریدنے والوں کے لیے' ہیلپ ٹو بائے اسکیم ' کاآغازکیا ہے ۔اس منصوبے کے تحت صرف 5 فیصد ادائیگی کے ساتھ 20 فیصد حکومت کی طرف سے قرضہ فراہم کیا جارہا ہے جسے پانچ برس کے بعد ماہانہ مقررہ شرح پرحکومت کو ادا کرنا ہو گا جبکہ اس شرح میں ہر سال اضافہ بھی ممکن ہے ۔اس طرح ایک خریدار کے لیے مکان کا رہن 75 فیصد رہ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ لندن میں بھاری کرایہ ادا کرنے والے کرایہ دار اس اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ نئے مکانات کی فراہمی میں کمی گھروں کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہی ہے تو دوسری جانب خریداروں کا رش بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے گھروں کی قیمتوں میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔

اس کے علاوہ لندن میں گھروں کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا برطانوی املاک میں دلچسپی رکھنا بھی ہے۔ پراپرٹی کی قیمتوں کو قابو میں لانے کے لیے حکومت غیرملکی سرمایہ کاروں پر پراپرٹی گین ٹیکس نافذ کرنے جارہی ہے تاہم اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ فی الحال لندن میں گھروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی نظر آرہی ہیں۔
XS
SM
MD
LG