رسائی کے لنکس

انسانی شجرے کی گمشدہ کڑی، ایکس وومن

  • جیسیکا برمن

ڈینی سووا غار کے اوپر سے لی جانی والی تصویر۔ اس غار میں سے ایکس وومن کی ہڈی دریافت کی گئی تھی۔

ڈینی سووا غار کے اوپر سے لی جانی والی تصویر۔ اس غار میں سے ایکس وومن کی ہڈی دریافت کی گئی تھی۔

سائنس دانوں نے انسان کے زمانہ قبل از تاریخ کے ایک ایسے گمشدہ رشتے دار کی تلاش میں کامیابی حاصل کر لی ہے جس سے انسانی شجرے کے نامکمل حصوں کو جوڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انسان کے قبل از تاریخ کے اس رشتے دار کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اس نے افریقہ سے نقل مکانی کی تھی اور یہ کہ اس کا جینیاتی تعلق قدیم انسانی نسل نی اینڈرٹال (Neanderthal) اور جدید انسانی نسل دونوں سے ہے۔

سائنس دانوں نے یہ اندازہ 2008ء میں سائبیریا کے قریب ایک غار سے ملنے والی عورت کی باقیات پر تجربات کے بعد لگایا ہے۔ وہاں سے ماہرین کو قبل از تاریخ دور کے کچھ کنگن اور زیورات بھی ملے تھے۔ سائنس دانوں نے اس عورت کو ’ایکس وومن‘ کا علامتی نام دیا ہے۔

30 ہزار سے50 ہزار سال پرانی ہڈیوں کے ابتدائی جینیاتی تجزیے سے ظاہر ہوا ہے کہ ’ایکس وومن‘ کا تعلق برفانی دور میں نقل مکانی کرنے والے تقریباً 20 لاکھ سال قبل کے قدیم باشندوں تیسری لہر کی نسل سے تھا۔اس نسل کی شاخیں جدید دور کا انسان اور نی اینڈرٹال ہیں، جسے انسان کا ایک قریبی رشتے دار سمجھا جاتا ہے۔ جو اس براعظم سے لگ بھگ پانچ لاکھ سال پہلے چلے گئے تھے۔

سوانتے پابو(Svante Paabo) جرمنی کے شہر لیپ زگ (Leipzig) میں ارتقائی حیاتیات سے متعلق میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے ایک سائنس دان ہیں۔ وہ نی اینڈرٹال اور دور جدید کے انسان کے ڈی این کے موازنے پر تحقیق کرنے بین الاقوامی ماہرین ٹیم کے سربراہ تھے۔ تحقیق سے یہ ظاہر ہوا کہ ایکس وومن کا تعلق تقریباً دس لاکھ سال قدیم انسان کی نسل سے تھا۔

پابو کہتے ہیں کہ اس سے پہلے ہم اس بارے میں واضح نہیں تھے کہ تقریباً دس لاکھ سال قبل کس نئی مخلوق میں آبائی جین منتقل ہوئے تھے۔

سائبیریا کے نزدیک ملنے والی عورت(ایکس وومن) کی باقیات میں نی اینڈرٹال اور جدید انسان کی نسل سے جینیاتی تعلق کے شواہد ملے ہیں۔ جس سے اس توقع میں اضافہ ہوا ہے کہ ایکس وومن کی باقیات انسان کی ارتقائی تاریخ کی گمشدہ کڑیاں تلاش میں مدد دے سکتی ہے۔

سائنس دان اس قدیم نسل کا جینیاتی نقشے کا کھوج لگانے کے لیے اس کے ڈی این اے پر مزید تجربات کر رہے ہیں۔

پابو کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ نسل انسانی کے شجرے میں ایکس وومن کس مقام پر ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ابھی ہم یہ نہیں جانتے کہ ایکس وومن ہمارے براہِ راست آباؤ اجداد میں شامل ہے، لیکن اس کے جینیاتی مطالعے کے بعد ہم یہ کہنے کے قابل ہوسکتے ہیں کہ آیا اس کا تعلق موجودہ انسانی نسل کی شاخ سے ہے یا نی اینڈرٹال کی شاخ سے یا پھر اس کی اپنی کوئی الگ جینیاتی شاخ تھی۔

اس مضمون میں شامل معلومات ایکس وومن کی دریافت کے حوالے سے سوانتے پابو اور ان کی ٹیم پر تحقیق پر ہفتہ وار جریدے نیچر میں شائع ہونے والے آرٹیکل سے لی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG