رسائی کے لنکس

لاہور: مسلم اور مسیحی برادری کا اظہارِ یکجہتی


پشاور میں پیش آنے والے افسوسناک دہشت گرد واقعے کے خلاف یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے، شرکا نے ایک دوسرے کے ہاتھ بھی تھامے ہوئے تھے۔ وہ اُس انسانی ہاتھوں کی زنجیر کا حصہ تھے جو چرچ کے باہر تک کھڑے سینکڑوں لوگوں کے ہاتھوں سے مل کر بنی تھی

دو، تین ہفتے قبل پشاور کے گرجا گھر میں پیش آنے والا واقعہ صرف مسیحی برادری کے لئے ہی افسوسناک نہیں تھا, بلکہ مسلم برادری کو بھی اس سانحے پر اب تک افسوس ہے۔ اس واقعے کے متاثرین سے مختلف طریقوں سے اظہار یک جہتی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اتوار کے روز ایمپریس روڈ پر ڈسٹرکٹ پولیس لائنز سے متصل سینٹ انتھونی چرچ کے باہر موجود سینکڑوں لوگوں نے ہاتھوں کی زنجیر بنائی۔

سانحہٴپشاور کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لئے جلوس میں اندازاً 200سے 300افراد موجود تھے۔

یہ سانحہ اتوار کے روز پشاور کے آل سینٹس چرچ میں دعائیہ تقریب کے بعد اچانک پیش آیا تھا۔ اس کے نتیجے میں، دو خود کش بم دھماکے ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے 100سے زائد افراد ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سو گئے۔ مسیحی برادری پر ہونے والا اب تک کا یہ سب سے بڑا حملہ خیال کیا جاتا ہے۔

گذشتہ اتوار کو اسی سانحے کے متاثرین کی دلجوئی کے لئے سینٹ انتھونی چرچ کے چھوٹے سے صحن میں مفتی محمد فاروق اور فادر ناصر گلفام موجود تھے۔ مفتی محمد فاروق نے چند قرآنی آیات پڑھیں جن کا مفہوم یہ تھا کہ تمام مسلمان دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے دینی عقائد کا احترام کریں اور برداشت و روداری کا مظاہرہ کریں۔

اس موقع پر، فادر ناصر گلفام بھی ان کے ہمراہ کھڑے تھے۔ اگرچہ فادر ناصر گلفام چرچ میں تقریباً دو گھنٹوں پر مشتمل اتوار کی مخصوص دعائیہ تقریب سے ابھی فارغ ہی ہوئے تھے، لیکن وہ تھکن کے باوجود مفتی صاحب سے کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے تھے۔

انہوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ بھی تھامے ہوئے تھے۔ وہ اس انسانی ہاتھوں کی زنجیر کا حصہ تھے جو چرچ کے باہر تک کھڑے سینکڑوں لوگوں کے ہاتھوں سے مل کر بنی تھی۔

یہ صرف اظہار یکجہتی ہی نہیں تھا، بلکہ ایک پیغام بھی تھا۔۔۔یعنی، ہم ایک ہی ملک کے باسی ہیں ۔۔اور ہمارا خون بھی ایک ہی ہے ۔۔۔“

ایسی ہی ایک انسانی ہاتھوں کی زنجیر گذشتہ ہفتے کراچی کے سینٹ پیٹرکس کیتھڈرل کے باہر بھی بنائی گئی تھی جس کا اہتمام ’پاکستان فار آل‘ نامی ایک تنظیم نے کیا تھا۔ یہ زنجیر ان شہریوں نے مل کر ترتیب دی تھی جنہیں اقلیتوں پر روز روز بڑھتے حملوں پر سخت تشویش تھی۔

انسانی ہاتھوں کی اس زنجیر کو ترتیب دینے کا سہرا محمد جبران ناصر کے سر ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو اس کام کے لئے اکھٹا کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ، ’دہشت گردوں نے ہم پر واضح کیا کہ وہ کیا کرسکتے ہیں اور ہم نے بھی انہیں بتادیا ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔۔۔ہم ایک ہیں۔‘

انسانی ہاتھوں کی زنجیر ترتیب دینے سے کچھ لمحے قبل چرچ میں جیسے ہی دعائیہ تقریب ختم ہوئی، صحن ’دہشت گردی مردہ باد۔۔اور۔۔۔مسلم مسیحی اتحاد زندہ باد‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ یہ بلند شگاف نعرے لگانے والے وہی افراد تھے جو اتوار کے روز ہونے والی خصوصی دعائیہ تقریب میں شرکت کے لئے وہاں پہنچے تھے۔ ان میں تیمور الرحمن سب سے نمایاں تھے۔ تیمور ایک میوزیکل بینڈ ’لال‘ کے روح رواں ہیں۔

بعد ازاں، ان افراد نے چرچ سے متصل گلیوں میں بھی ہاتھوں سے زنجیر بنائی اور نعرے لگائے۔ اس موقع پر پولیس نے اطرافی سڑکوں کو ٹریفک کے لئے بند کردیا تاکہ جلوس کے شرکا آسانی نے آ جا سکیں۔

مریم طارق جو اپنی بیٹی کے ساتھ سروس میں شریک تھیں انہوں نے بھی اپنے ہاتھوں سے زنجیر بنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ، ’ہم نے حالیہ سالوں میں اپنے بہت سے پیاروں کو ہمیشہ کے لئے کھو دیا ہے‘۔ یہ کہتے کہتے وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور ان کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔
XS
SM
MD
LG