رسائی کے لنکس

خرم ذکی کے قتل پر انسانی حقوق کے کارکنوں کی تشویش

  • عشرت سلیم

جبران ناصر نے کہا کہ ہمیں اسلحے کے زور پر مسائل حل کرنے کی بجائے مکالمے اور استدلال کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے کراچی میں سابق صحافی اور فرقہ وارانہ انتہا پسندی کے خلاف سرگرم کارکن خرم ذکی کے قتل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اعتدال پسند نظریات اور مکالمے کو فروغ دینے کی سخت ضرورت ہے۔

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں نامعلوم مسلح افراد نے ہفتے کو دیر گئے فائرنگ کر کے خرم ذکی کو قتل کر دیا تھا۔

قائداعظم یونیورسٹی کی پروفیسر اور انسانی حقوق کی کارکن فرزانہ باری نے کہا کہ خرم ذکی فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کے خلاف بہت مضبوط آواز تھے جنہیں خاموش کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان جیسے نظریات رکھنے والے باقی لوگ بھی محسوس کر رہے ہیں کہ وہ بھی شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔

’’خرم ذکی جیسی سوچ رکھنے والے جو لوگ ہیں ان کی کمی نہیں ہے لیکن وہ خاموشی اخیتار کرتے ہیں اسی ڈر اور خوف کی وجہ سے۔ چند بلند آوازیں ہیں جن کی شناخت یہ (شدت پسند عناصر) کر لیتے ہیں اور پھر ایک ایک کر کے ان کو ختم کر دیتے ہیں۔ کراچی میں سبین محمود گئی، پروین رحمٰن گئی، ملتان میں راشد رحمٰن گئے، ہم سب لوگوں کے لیے بہت باعث نشویش ہے اب یہ بات۔ ‘‘

خرم ذکی کے ساتھی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک اور نمایاں آواز جبران ناصر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس قتل میں وہ انتہا پسند تنظیمیں ملوث ہیں جن کے خلاف خرم سرگرم تھے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ صرف انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہی تحفظ کی ضرورت نہیں بلکہ ملک کے ہر شہری کی حفاظت کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلحے کے زور پر مسائل حل کرنے کی بجائے مکالمے اور استدلال کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

’’ہم لوگوں کو ان کے نظریات کی وجہ سے ہی مارتے ہیں یا ان کے عقائد کی وجہ سے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں دلائل نہیں ہیں، ہمارے ہاں مکالمہ نہیں ہے، بحث نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تشدد شروع ہو گیا ہے۔ اسلحے سے پاک معاشرے کی طرف جائیے۔‘‘

انہوں نے سوال کیا کہ ’’کیوں عام اسلحہ۔۔ دستیاب ہے لوگوں کو؟ جب کسی کی آپ نے پرچی دینی ہو آپ نے دس پندرہ بیس ہزار پکڑائے اور جا کے ٹارگٹڈ کلنگ کسی کی کروا دی۔‘‘

سابق صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن کاملہ حیات نے کہا کہ اس قسم کے قتل سے پورا معاشرہ کمزور ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے تدارک کے لیے انتہا پسندانہ ذہنیت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

’’اس کے لیے تعلیمی نصاب بھی استعمال کرنا ہے، میڈیا کو بھی استعمال کرنا ہے اور ذرائع بھی استعمال کرنے ہیں، بلکہ مساجد کو بھی استعمال کرنا ہے۔ مسجدوں کے جو امام ہیں انہیں بھی تعلیم دینی ہے، اصل مذہب کی طرف لے کے جانا ہے، اور کوئی مذہب یہ نہیں کہتا کہ آپ کسی دوسرے کو مار دیں۔‘‘

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت اور سکیورٹی اداروں کی طرف سے انتہا پسند افراد اور تنظیموں کی واضح نشاندہی نہیں کی جائے گی عوام میں ہمیشہ ان کی اصل کردار کے بارے میں شکوک و شبہات رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG