رسائی کے لنکس

افغان جنگ میں تشدّد کا نشانہ بیشتر عام شہری ہیں


امریکی محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں پچھلے سال باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں میں سب سے زیادہ مصائب عام شہریوں کو جھیلنا پڑے۔

محکمہ خارجہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مسلح جھڑپیں افغانستان کے تقریباً ایک تہائى رقبے پر پھیل گئى ہیں اور ان کی وجہ سے افغان حکومت کی مؤثر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال اگست کے الیکشن میں 50 لاکھ افغان شہریوں نے ووٹ ڈالے تھے، لیکن یہ الیکشن دھاندلی اور عورتوں کی شرکت کے لیے ناقص انتظام کے الزامات کے باعث داغ دار ہو گیا۔ اس کے علاوہ طالبان انتخابات میں خلل ڈالنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ماورائے عدالت ہلاکتوں، اذیّت رسانی اور لوگوں کو غائب کردیے جانے کے واقعات سمیت، انسانی حقوق کے بعض اہم مسائل بدستور باقی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے ایسے الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ پاکستان میں باغیوں نے مقامی آبادی اور نفاذِ قانون کے ذمّے دار عہدے داروں کو خوف زدہ کرنے کے لیے دہشت گردی کی اور انتقام کے طور پر لوگوں کو ہلاک کیا۔

محکمہ خارجہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں یا فاٹا اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں پچھلے سال 800 سے زیادہ عام شہری ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سری لنکا میں ملک کی خانہ جنگی کے اختتام پر تقریباً تین لاکھ بے گھر لوگوں کو کیمپوں میں قید کر دینے سے انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے سری لنکا کی حکومت کے وعدے مشکوک ہو گئے۔ لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2009ء کے آخر میں حکومت نے اُجڑے ہوئے لوگوں کے ساتھ اپنے برتاؤ اور انسانی حقوق پر عمل درآمد کی صورتِ حال کو بہتر بنانے میں اہم پیش رفت کی۔

محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ازبکستان کی حکومت نے 2009ء کے دوران ذرائع ابلاغ پر سخت کنٹرول کو قائم رکھا اور اُس نے حکومت کے خلاف نکتہ چینی کے حامل نقطہ ہائے نظر کی اشاعت کی اجازت نہیں دی۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کے عہدے دار باقاعدگی کے ساتھ اخباری اداروں کو اس قسم کی واضح ہدایات کے ساتھ کہ اُنہیں کیا چیز شائع کرنی ہے اور کیا نہیں، اُنہیں شائع کرنے کے لیے فرضی ناموں کے ساتھ مضامین اور مراسلے حوالے کرتے رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں حکومت نے پچھلے سال جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کی بحالی کے بعد انسانی حقوق کے ریکارڈ کو بہتر بنایا ہے۔

محکمہٴ خارجہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت نے بھی انسانی حقوق کی صورتِ حال کو بہتر بنانے کی جانب قدم بڑھائے ہیں۔ لیکن حکام کی تحویل میں لوگوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں، لوگوں کو غائب کردیے جانے کے واقعات اور پولیس کے ہاتھو مبینّہ اذیّت رسانی اور جنسی تشدّد سمیت، ملک میں انسانی حقوق کے اہم مسائل بدستور باقی ہیں۔

XS
SM
MD
LG