رسائی کے لنکس

پچاس سال بعد دانائی زیادہ، جذبات کم

  • جمیل اختر

پچاس سال بعد دانائی زیادہ، جذبات کم

پچاس سال بعد دانائی زیادہ، جذبات کم

انسان جس چیز کی مددسے کرہ ارض کو تسخیر کرنے کے بعداب ستاروں پر کمندیں ڈال رہاہے،اس کا نام ہے دانائی۔ لیکن یہ وہ گوہر ہے جو آسانی سے ہاتھ نہیں آتا اور ایک عمر درکار ہوتی ہےیہ منزل پانے کے لیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دانا بننے میں ایک طویل عرصہ لگتا ہے کیونکہ انسان میں دانائی آتی ہے زندگی کی 50 بہاریں دیکھنے کے بعد۔

ماہرین کے مطابق دانائی سے مراد شعور میں پختگی اور متوازن اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے۔

عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بڑی عمر کے افراد چونکہ زندگی کے نشیب و فراز دیکھ چکے ہیں اور وہ بہت سے تجربات سے گذر چکے ہیں ، اس لیے وہ اچھے برے کی بہتر طورپر تمیز کرسکتے ہیں۔اس لیے ان کی سوچ پختہ اور فیصلے بہتر ہوتے ہیں۔ جب کہ ماہرین کی رائے اس سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 50 برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد دماغ کے اس حصے کی کارکردگی سست ہوجاتی ہے،جس کاتعلق جذبات سے ہوتا ہے۔ چونکہ اس کے بعد ان کی سوچ پر جذبات غالب نہیں رہتے ، اس لیےان کی رائے اور فیصلے زیادہ درست اور دانائی پر مبنی ہوتے ہیں۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سین ڈیاگو میں ڈاکٹر دلیپ جیست کی زیر نگرانی کی جانے والی اس تحقیق میں 60 سے 100 سال کی عمرکے تین ہزار سے زیادہ افراد کی زندگیوں کا مطالعہ کیا گیا اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ عمر کے ساتھ ان کے دماغ میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

ماہرین کو معلوم ہوا کہ بڑی عمر کے افراد بھی دوسرے عام لوگوں کی طرح نئے علوم سیکھ سکتے ہیں، چنانچہ یہ پرانی کہاوت کوئی وزن نہیں رکھتی کہ بوڑھے طوطے پڑھ نہیں سکتے۔

ماہرین کا کہنا ہے بڑی عمر میں بھی، تاوقتتکہ کوئی دماغی عارضہ لاحق نہ ہو، تمام دماغی صلاحیتں عمر کے کسی بھی دوسرے حصے کی طرح فعال ہوتی ہیں اور صرف ان خلیوں کی کارکردگی کم ہوجاتی ہے جوکسی چیز سے متاثر ہوکر جذبات اور ہیجان پیدا کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کا یہی عمل دانائی کی روح ہے۔

ڈاکٹر دلیپ کہتے ہیں کہ بڑی عمر کے افراد کے دماغ خون کی گردش تیز کرنے والے ہارمون کم پیدا کرتے ہیں، اس لیے وہ بڑی آسانی سے اپنے جذبات پر کنٹرول کرسکتے ہیں ۔ جس سے ان میں نوجوانوں کی طرح جذبات کی رو میں بہہ کر بلاسوچے سمجھے کچھ کرگذرنے کا امکان کم ہوجاتا ہے اور اسی چیز کا نام ہے دانائی۔

ان کا کہنا ہے کہ دماغ کے ایم آرآئی ا سکین سے دانائی میں بنیادی کردار ادا کرنے والے چار حصوں کی نشان دہی ہوچکی ہے۔عمر رسیدہ افراد کے دماغ ان حصوں کی فعالیت نوجوانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

پروفیسر دلیپ جیست کہتے ہیں کہ معمر افراد کے دماغ کےاسکین یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عمر میں اضافے کے باوجود ان میں نئی چیزیں سیکھنے کی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں آتی کیونکہ دماغ میں نئے نیوران پیدا ہونے کا عمل آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔

ڈاکٹر جیست کا کہنا ہے کہ بڑی عمر کے افراد کو گوشہ نشینی اختیار کرنے کی بجائے اپنی دماغی صلاحتیوں کا خودبھی فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس کے ثمرات دوسروں تک بھی پہنچانے چاہیں۔

XS
SM
MD
LG