رسائی کے لنکس

انسانی حقوق پر سالانہ امریکی رپورٹ کا تجزیہ

  • گیب جوسیلو

گوانتاناموجیل

گوانتاناموجیل

امریکہ نے دنیا کے ملکوں میں انسانی حقوق کی رپورٹ جاری کی ہے لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس شعبے میں خود اپنا ریکارڈ بھی بہتر کرنا چاہیئے ۔

امریکی محکمہ ء خارجہ کی انسانی حقوق کی تازہ رپورٹ میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفصیل بتائی گئی ہے ۔ مثلاً، رپورٹ میں ایسے لوگوں کی مثالیں دی گئی ہیں جنھیں ایران میں کوئی الزام عائد کیے بغیر گرفتار کر لیا گیا اور حراست کے دوران اذیتیں دی گئیں۔ لیکن انسانی حقوق کے علمبردار بعض لوگوں نے کہا ہے کہ امریکہ نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گرفتار کیے جانے والے مشتبہ افراد پر اسی قسم کی زیادتیاں کی ہیں۔


ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے (Advocacy) ایڈووکیسی ڈائریکٹر ٹی کمار کہتے ہیں کہ گوانتانامو بے، کیوبا میں قید کیے جانے والوں لوگوں کے ساتھ کی جانے والی بد سلوکی سے انسانی حقوق کی اور زیادہ سنگین خلاف ورزیوں کا جواز پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ جس لمحے امریکہ ایسے لوگوں کو جو امریکی شہری نہیں ہیں، واٹر بورڈنگ یا دوسری قسم کی اذیتیں دینے میں عار محسوس نہیں کرتا یا انہیں مقدمہ چلائے بغیر طویل عرصے تک یعنی سات آٹھ برس تک قید میں رکھتا ہے اور ان کے مقدمے بھی منصفانہ نہیں ہوتے تو پھر اس میں کچھ زیادہ وقت نہیں لگے گا کہ اپنے شہریوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جانے لگے گا‘‘۔

امریکہ کے صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے گذشتہ سال اعلان کیا تھا کہ ان الزامات کی تفتیش کی جائے گی کہ سابق صدر جارج ڈبلو بُش کے دور میں انٹیلی جنس ایجنٹوں نے پوچھ گچھ کے لیے جارحانہ طریقے استعمال کیے تھے۔


سابق نائب صدر ڈک چینی نے ہمیشہ بُش انتظامیہ کی انٹیلی جنس کی پالیسیوں کا پُر زور الفاظ میں دفاع کیا ہے ۔ گذشتہ اگست میں فاکس نیوز کے اتوار کے ٹیلیویژن پروگرام میں مسٹر چینی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوچھ گچھ کے ان طریقوں کا استعمال ضروری تھا۔ ان کےمطابق ’’ القاعدہ کے ان تمام ارکان کی گرفتاری میں جنہیں ہم انصاف کے کٹھرے تک لائے، پوچھ گچھ کے ان طریقوں کا استعمال کیا گیا۔ میرے خیال میں ان طریقوں کے استعمال کی بدولت ہی یہ ممکن ہوا کہ آٹھ برس تک ، امریکہ کے خلاف مزید کوئی بڑے حملے نہیں ہوئے ‘‘۔

ایک اور پہلو جس پر ایمنیسٹی انٹرنیشنل کو تشویش ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ میں اب بھی سزائے موت دی جاتی ہے ۔مسٹر کمار کہتے ہیں کہ مغربی ملکوں میں صرف امریکہ ہی ایسا ملک ہے جہاں اب بھی پھانسی کی سزا موجود ہے ۔انھوں نے کہا کہ’’کسی کو بھی کسی دوسرے انسان کی جان لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے ۔ سزائے موت کی مخالفت کی بنیاد ہمارا یہی عقیدہ ہے ۔بد ترین مجرم بھی جیسے بار بار جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والے لوگ ہوں یا بڑے پیمانے پر لوگوں کے قتل کے مجرم ہوں ہم ان کے بارے میں بھی یہی کہتے ہیں کہ کسی کوکسی دوسرے انسان کی جان لینے کا حق نہیں ہے ‘‘۔


لیکن سزائے موت کے حامی گروپ Throw Away the Key کے مائیکل پرانزینو کہتے ہیں کہ قاتلوں کو پھانسی دینے کا مقصد یہ ہے کہ مقتولوں کے خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ’’

اس بحث میں توجہ اس بات پر ہونی چاہیئے کہ جب لوگ قتل کیئے جاتے ہیں تو پورے خاندان کو نا قابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے ‘‘۔

ایمنیسٹی نے امریکہ میں علاج معالجے کے نظام پر بھی تنقید کی ہے ۔ مسٹر کمار کہتے ہیں کہ صحت کی دیکھ بھال ایک بنیادی حق ہے جو دوسرے ملکوں میں سب کو دستیاب ہے۔ امریکہ میں بھی تمام لوگوں کو یہ سہولت حاصل ہونی چاہیئے ۔ ان کے مطابق ’’میں یہ کہوں گا کہ اس معاملے میں امریکہ دوسرے مغربی ملکوں کے ہم پلہ نہیں ہے لیکن جب آپ دوسرے ملکوں کے ساتھ جیسے چین کے ساتھ امریکہ کا موازنہ کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ امریکہ بہت آگے ہے‘‘ ۔

امریکی کانگریس میں علاج معالجے کے نظام میں اصلاح پر مہینوں سے بحث ہو رہی ہے۔ اگرچہ علاج معالجے کی بنیادی سہولتوں کی ضرورت پر سب متفق ہیں لیکن بہت سے قدامت پسند قانون سازوں کا خیال ہے کہ حال ہی میں جو تجاویز پیش کی گئی ہیں، ان پر بہت زیادہ اخراجات ہوں گے۔ریپبلیکن سینیٹر لامر الیگزنڈر نے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے بارے میں ایک حالیہ کانفرنس میں کہا کہ’’ہمارا ملک بہت بڑا ہے، بہت پیچیدہ ہے، بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے۔ یہاں واشنگٹن میں بیٹھ کر ایک ہی وقت میں ایسے معاملے کے بارے میں، جو ہماری 17 فیصد معیشت پر محیط ہے چند ضابطے تحریر کرنا ممکن نہیں ہے‘‘ ۔

اگرچہ دنیا کے ملکوں کے بارے میں امریکی محکمہء خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں امریکہ پر تبصرہ نہیں کیا گیا ہے لیکن اس موسم خزاں میں اقوام متحدہ کی Human Rights Council میں امریکہ میں انسانی حقوق کی داخلی صورتِ حال زیر بحث آئے گی۔

XS
SM
MD
LG