رسائی کے لنکس

ابراہیم حیدری سمندر سے بہت قریب ہے اور مرکزی علاقے سے دور ہونے کے باعث یہاں صاف پانی کی فراہمی کا ٹوٹی پھوٹی پائپ لائنوں کے علاوہ کوئی اور نعم البدل نہیں۔ اس لئے، جب بھی مسائل کھڑے ہوئے ہیں ان کا وقتی حل نکال لیا جاتا ہے، پائپس کی عارضی مرمت کردی جاتی ہے لیکن۔۔۔

کراچی کا علاقہ ابراہیم حیدری شہر سے جڑا ہونے کے باوجود آئے دن مسائل کا شکار رہتا ہے۔ ان دنوں بھی ایک مسئلہ یہاں کے باسیوں کے لئے درد سر بنا ہوا ہے اور وہ ہے ڈائریا یعنی ہیضہ۔ اس بیماری سے اب تک 200 سے زائد افراد متاثر ہوکر اسپتال پہنچ چکے ہیں۔

بیماروں میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے جبکہ اس کی وجہ پر نگاہ دوڑائیں تو وہ ہے پینے کے پانی کی پائپ لائنوں میں گٹر کے پانی کی آمیزیش۔

گو کہ کراچی کے بے شمار علاقوں میں اس طرح کی شکایات عام ہیں اور اتفاقیہ طور پر بھی ایسا ہوجاتا ہے۔ لیکن، ابراہیم حیدری کے علاقے میں اتفاقیہ نہیں بلکہ کئی بار پہلے بھی ایسا ہوچکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ علاقے کی تمام سیوریج لائنیں اپنی میعاد پوری کرچکی ہیں اور جگہ جگہ سے توٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

علاقے کے ایک دیرینہ مکین، فقیرہ کا کہنا ہے کہ ابراہیم حیدری کا علاقہ سمندر سے بہت قریب ہے اور مرکزی علاقے سے دور ہونے کے باعث یہاں صاف پانی کی فراہمی کا ٹوٹی پھوٹی پائپ لائنوں کے علاوہ کوئی اور نعم البدل نہیں۔ اس لئے، جب بھی مسائل کھڑے ہوئے ہیں ان کا وقتی حل نکال لیا جاتا ہے، پائپس کی عارضی مرمت کردی جاتی ہے۔ لیکن، کچھ دن بعد عارضی حل پانی میں بہہ جاتا ہے اور پھر ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس بار بھی ہیضہ پھیلنے کے سبب درجنوں لوگ اسپتال میں داخل ہیں۔‘

علاقے کے زیادہ تر افراد سندھ گورنمنٹ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ بیماری کی وجہ آلودہ پانی ہے۔سندھ گورنمنٹ اسپتال ابراہیم حیدری کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے سے مریضوں کی اسپتال آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک دو سو کے قریب لوگوں کو طبی امدا دی جاچکی ہے۔ لیکن اگر علاقے میں آلودہ پانی کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو ڈائریا کے علاوہ ہیپا ٹائٹس، ٹائیفائیڈ، گیسٹرو سمیت پیٹ اور گلے کی بہت سی بیماریاں وبا کی صورت اختیار کر سکتی ہیں۔اس مسئلے کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

XS
SM
MD
LG