رسائی کے لنکس

جنوبی کوریا: زیرِ زمین ٹرینوں میں تصادم، 200 زخمی


حادثے کے بعد ایک ہزار سے زائد افراد کو امدادی اہلکاروں نے جائے حادثہ سے ٘محفوظ مقام پر منتقل کیا

حادثے کے بعد ایک ہزار سے زائد افراد کو امدادی اہلکاروں نے جائے حادثہ سے ٘محفوظ مقام پر منتقل کیا

سیول شہر کی زیرِ زمین میٹرو ٹرین سروس انتہائی جدید خطوط پر استوار ہے جسے روزانہ 45 لاکھ مسافر استعمال کرتے ہیں۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں زیرِ زمین چلنے والی دو ٹرینوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جنوبی کوریا میں پیش آنے والے یہ دوسرا بڑا حادثہ ہے۔ اس سے قبل 16 اپریل کو ایک مسافر فیری ڈوبنے کے نتیجے میں لگ بھگ 300 افراد ہلاک یا لاپتا ہوگئے تھے جن میں اکثریت اسکول کے طلبہ کی تھی۔

تاہم حکام کے مطابق جمعے کی دوپہر سیول میں پیش آنے والے ٹرین حادثے میں زخمی ہونے والے بیشتر افراد کو معمولی زخم آئے ہیں۔

حادثے کےبعد شہری انتظامیہ کے ایک اہلکار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ حادثہ شہر کے مشرقی علاقے میں قائم ایک زیرِ زمین ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا جہاں آنے والی ایک ٹرین پہلے سے کھڑی ہوئی ٹرین سے ٹکراگئی۔

اہلکار کے مطابق حادثے کےبعد دونوں ٹرینوں میں پھنسے ہوئے اور اسٹیشن پر موجود ایک ہزار سے زائد افراد کو امدادی اہلکاروں نے جائے حادثہ سے نکالا۔

ریل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ حادثہ سگنل فیل ہونے کے باعث پیش آیا جس کے نتیجے میں ٹرین کی دو بوگیاں پٹری سے اتر گئی ہیں۔

سیول شہر کی زیرِ زمین میٹرو ٹرین سروس انتہائی جدید خطوط پر استوار ہے جسے روزانہ 45 لاکھ مسافر استعمال کرتے ہیں۔

جنوبی کوریا میں زیرِ زمین ٹرین کا آخری ہلاکت خیز واقعہ 2003ء میں پیش آیا تھا جب ڈائیگو نامی شہر میں ایک ٹرین میں آگ لگنے کے نتیجے میں 192 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حادثے کے بعد جنوبی کوریا کی حکومت نے 'سب وے' نظام میں کئی اصلاحات کی تھیں اور زیرِ زمین سفر کو مزید محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے تھے۔
XS
SM
MD
LG