رسائی کے لنکس

”دریائے ہنزہ کی طغیانی ناگزیر،نقصان کا تخمینہ نہیں لگاسکتے“

  • حسن سید

متاثرین کے لیے امدادی اشیا وادی میں پہنچائی جارہی ہیں

متاثرین کے لیے امدادی اشیا وادی میں پہنچائی جارہی ہیں

ماہرین اور حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے علاقے عطا آباد میں پہاڑی تودے گرنے سے بندش کا شکار ہونے والے دریائے ہنزہ کی طغیانی ناگزیر ہے جو ان کے مطابق ایک تشویشناک امر ہے لیکن اس سے کتنے پیمانے پر جانی یا مالی نقصان ہوسکتا ہے اس بارے میں کوئی بھی کچھ بھی کہنے سے قاصر ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ فاروق احمد خان کا کہنا ہے کہ نیسپاک اس ضمن میں ایک رپورٹ مرتب کررہا ہے جس کے تحت تکنیکی لحاظ سے اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ کتنے میٹر کا سیلانی ریلا کتنی آبادی کو متاثر کرسکتا ہے۔

عالمی ادارہ موسمیات کے نائب صدر ڈاکٹر قمرالزمان نے وائس آف امریکہ سے انٹریو میں کہا کہ مارچ کے تیسرے ہفتے تک علاقے میں درجہ حرارت تین سے چار سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے جس سے برف پگھلنے کا عمل بتدریج تیز ہوگا اور دریا میں پانی کی مقدار بڑھے گی۔ان کاکہنا تھا کہ طغیانی سے ہونے والے نقصان کے بارے میں پیش گوئی نہیں کی جاسکتی کیونکہ ”اس کا انحصار پانی کی مقدار پر ہے ،جیسے جیسے پانی کی سطح اوپر آتی جائے گی اتنی ہی تباہی زیادہ ہونے کا اندیشہ ہے“۔

ایک سوال کے جواب میں قمر الزمان چوہدری نے کہا کہ دریائے ہنزہ میں بننے والی ”مصنوعی جھیل“ یا ڈیم میں پانی کی سطح روزانہ دو فٹ اوپر جارہی ہے جن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ جون یا جولائی تک اس میں طغیانی آسکتی ہے۔

فاروق احمد اس استدلال سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ بند ٹوٹنے کے بارے میں کوئی حتمی وقت نہیں دیا جاسکتا ۔”1973 میں بھی اس علاقے میں پہاڑی تودے گرنے سے پانی کی بندش ہوئی تھی اور یہ بند تین سال بعد ٹوٹا“۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بند یک لخت ٹوٹتا ہے تو زیریں علاقوں میں رہنے والے ہزاروں افراد کی زندگیوں کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ لیکن فاروق احمد خان کے مطابق مقامی حکومت اور متعلقہ اداروں نے ایسی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اور لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کررکھے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی ممکنہ بڑی تباہی سے بچنے کے لیے ڈیم کے ساتھ ایک سپل وے یعنی آبی گزرگاہ بھی قائم کی جارہی ہے جس کا صرف ایک چوتھائی کام باقی رہ گیا ہے اور اس کے مکمل ہوتے ہی ڈیم سے پانی کا اخراج شروع ہوجائے گا۔
خیال رہے کہ چار جنوری کو عطا آباد میں پہاڑی تودے گرنے سے 14افراد ہلاک اور سات زخمی جب کہ چھ لاپتہ ہوئے تھے۔ اس واقعے میں 175کے قریب خاندان متاثر ہوئے جنہیں حکومت کی طرف سے کھانے پینے کی اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG