رسائی کے لنکس

”مصنوعی جھیل کا بند ٹوٹنے سے ممکنہ نقصانات میں 50 فیصدکمی“

  • ن ہ

لیفٹیننٹ جنرل شاہد نیاز

لیفٹیننٹ جنرل شاہد نیاز

جمعرات کو راولپنڈی میں صحافیوں کو ایک تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے انجنیئرنگ کے شعبے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شاہد نیاز نے بتایا کہ وادی ہنزہ میں عطا آباد کے مقام پر چارماہ قبل پہاڑی تودے گرنے سے بننے والی مصنوعی جھیل کا بند ٹوٹنے کا فوری طور پر خطرہ نہیں ہے۔

خیا ل رہے کہ 4 جنوری کو پیش آنے والے اس حادثے میں 20 افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو گئے تھے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ نے دریا ہنزہ کا راستہ روک دیا جس کی وجہ اس علاقے میں ایک مصنوعی جھیل بن گئی اور شاہراہ قرا قرم کا کچھ حصہ بھی اس میں ڈوب گیا۔

جنرل نیاز نے بتایا کہ جھیل سے پانی کے اخراج کے لیے راستہ بنانے کا کام آئندہ دو ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا اور توقع ہے کہ اس عرصے میں جھیل کا پانی سپل وے سے بہنا شروع ہو جائے گا۔ ”سپل وے بنانے سے جھیل کا بند ٹوٹنے سے ہونے والے نقصانات میں 50 فیصد کمی ہو گئی ہے جو ایک اہم پیش رفت ہے۔“

انھوں نے کہا کہ اس بحران کے حل کے لیے مقامی ماہرین کے علاوہ پاکستان نے جاپان، چین، برطانیہ اور عالمی بنک کے ماہرین سے بھی صلاح مشورے اور تجاویز کا تبادلہ کیا اور تما م لوگوں نے جھیل کا معائنہ کرنے کے بعد پانی کے اخراج کے لیے راستہ بنانے کو ہی سب سے بہتر اور محفوظ حل قرار دیا۔

جنرل نیاز نے کہا کہ لینڈ سلائیدنگ کی وجہ سے بننے والی جھیل کا بند آخر کار ٹوٹ جاتا ہے اور پچھلے دو سو سالوں میں وادی ہنزہ اور اس کے اردگرد علاقوں میں ایسی تین مصنوعی جھیلیں بن چکی ہیں جن میں سے دو کا بند ٹوٹ گیا تھا۔ ” تمام تر حالات کا جائزہ لینے کے بعد میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ عطا آباد میں بننے والی جھیل کا بند نہیں ٹوٹے گا“۔

.انھوں نے کہا کہ سپل وے بنانے سے جھیل کابند ٹوٹنے کی صورت میں مقامی آبادیوں کو لاحق خطرات میں خاطر خواہ کمی ہو گئی ہے لیکن اس کے باوجود نشیبی علاقوں میں نقصانات کا اندیشہ موجود ہے جس سے نمٹنے کے لیے ضروری اقداما ت کر لیے گئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بننے والی جھیل 20 کلومیٹر تک پھیل چکی ہے اور اس کے رقبے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جھیل میں پانی کی بلندی لگ بھگ چار سو فٹ بتائی گئی ہے۔ اس بحران کی وجہ سے پاکستان کو چین سے ملانا والا واحد زمینی راستہ یعنی شاہرہ قراقرم پچھلے چار ماہ سے بند ہے جس کے باعث حکام کا کہنا ہے کہ دو طرفہ تجارت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG