رسائی کے لنکس

پاکستانی سفیر کی مستعفی ہونے کی پیشکش


پاکستانی سفیر کی مستعفی ہونے کی پیشکش

پاکستانی سفیر کی مستعفی ہونے کی پیشکش

واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کر دی ہے جس کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کے خلاف امریکہ کی مدد حاصل کرنے کے لیے صدر آصف علی زرداری سے منسوب مبینہ خط کا معاملہ بظاہرایک انتہائی سنجیدہ صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ حکومت اس تمام معاملے کی مفصل تحقیقات کرے گی اور اگر کسی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو ایسا کرنے والے کو اس کی وضاحت کرنا ہو گی۔

’’سوال یہ ہے کہ یہ میمو ( پیغام) کس طرح تیار کیا گیا اوراس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، ان سب کی تحقیقات کی جائیں گی۔ (پاکستانی) سفیر کو پہلے ہی پاکستان طلب کیا جا چکا ہےاور مجھے اُمید ہے وہ جلد یہاں پہنچنے والے ہیں۔ جہاں تک میری معلومات ہیں تو وہ پہلے ہی قوم کےعظیم مفاد میں صدرِ پاکستان کے نام خط میں مستعفی ہونے کی پیشکش کرچکے ہیں۔‘‘

پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت منصور اعجاز نےگزشتہ ماہ برطانوی اخبار ’فائننشل ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں الزام لگایا تھا کہ ایک اعلٰی پاکستانی سفارت کار نے اُن سے رابطہ کر کے صدر زرداری کا مبینہ خط اُس وقت کے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک ملن کو پہنچانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

منصور اعجاز کے بقول دو مئی کو ایبٹ آباد میں خفیہ امریکی آپریشن میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی صدر کو خدشہ تھا کہ فوج بغاوت کے ذریعےاقتدار پر قبضہ کرلے گی اس لیے وہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کےسربراہ احمد شجاع پاشا کو برطرف کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے اُنھیں امریکی صدر براک اوباما کی مدد درکار ہوگی۔

ایبٹ آباد آپریشن کے بعد ملک میں رونما ہونے والے واقعات نے صدر زرداری کی حکومت اور ملک کی فوجی قیادت کے درمیان سخت کشیدگی کو اجاگر کیا ہے۔

پاکستان کے سیاسی حلقوں اور ذرائع ابلاغ کا عمومی تاثر یہ ہے کہ صدر زرداری کے مبینہ خط کا تصور اور اسے امریکی حکام تک پہنچانے میں مرکزی کردار حسین حقانی نے ادا کیا ہے۔

پاکستانی سفیر نے بھی واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اُنھوں نے پاکستانی قیادت کو اپنے مستعفی ہونے یا پھر ملک کی ’’جمہوری حکومت کو بدنام کرنے کی بعض عناصر کی طرف سے شروع کی گئی مہم کا خاتمہ‘‘ کرنے کے لیے ہرطرح کی تحقیقات کا حصہ بننے کی پیشکش کر دی ہے۔

پاکستانی سفیر حسین حقانی

پاکستانی سفیر حسین حقانی

حسین حقانی کو 2008ء میں امریکہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔

’’سوائے اشاروں کنایوں کے تاحال مجھ پر کوئی غلط کام کرنے کا الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ میں نے کوئی بھی ایسا پیغام تیار یا ارسال نہیں کیا ہے جس کا تذکرہ ذرائع ابلاغ میں کیا جا رہا ہے۔ میں یہ یاد دہانی بھی کراتا چلوں کہ 2008ء میں سفیر کی حیثیت سے میری تقرری کے بعد کچھ لوگوں نے مسلسل یہ کہہ کر میری کردار کشی کی کوشش کی کہ میں پاکستان کی مسلح افواج کو بدنام کرنے میں ملوث ہوں جو میں نے کبھی نہیں کیا ہے۔‘‘

دریں اثنا سابق ایڈمرل مائیک ملن کے ایک ترجمان نے اپنے تازہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ اُنھیں منصور اعجاز کی طرف سے صدر زرداری کا مبینہ پیغام موصول ہوا تھا۔ ’’ نہ تو پیغام کے مندرجات اور نہ ہی اس کا وجود ایڈمرل ملن کے جنرل کیانی اور پاکستانی حکومت کے ساتھ تعلقات پر اثرانداز ہوئے۔ اُنھوں نے اس کو کبھی بھی مستند نہیں سمجھا اور نہ ہی اس پر کوئی توجہ دی۔‘‘

پاکستان میں حکومت کے ناقدین اور حزب مخالف کے سیاست دان مطالبہ کررہے ہیں کہ اگر منصور اعجاز کے الزامات بے بنیاد ہیں تو حکومت وقت اس کے اور برطانوی اخبار کے خلاف قانون چارہ جوئی کرے اور ان میں سچائی ہے تو ملک کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی پاداش میں ان ذمہ داران کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔

XS
SM
MD
LG