رسائی کے لنکس

کھیل کوئی بھی ہو کھلاڑی جو بھی ہو جیت کے عزم کے ساتھ وہ اپنے ملک کی خاطر کھیلتا ہے،وہ میدان میں اپنے ملک کا سفیر ہوتا ہے۔ اسکی جیت پوری قوم کی جیت ہوتی ہے۔اسلئے کھلاڑی جب میدان میں اترتا ہے تو آخری لمحات تک لگن اور جذبے کے ساتھ کھیلتا ہے تاکہ جیت اسکی ہو۔

واشنگٹن ۔۔۔ اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو تاریخ گواہ ہے کہ اس کی مٹی نے ہر دور میں کرکٹ، ہاکی اور سکواش میں عظیم کھلاڑی پیدا کیے اور اکثر یہ کھلاڑی مالی پسماندگی اور سخت حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے آئے۔ ایسے ہی ایک کھلاڑی باکسرسید حسین شاہہیں جن کا شمار جنوبی ایشیا کے بہترین باکسرز میں ہوتا ہےجو پاکستان کی باکسنگ کی تاریخکی ایک درخشہ مثال ہیں۔ ایک ایسے باکسر جنہوں نے انتہائی غربت اور مشکلات کے باوجود بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا ۔شاہ 1964 میں پیدا ہوئے ۔ان کا پورا بچپن کراچی کی سڑکوں پر ایک بے گھر بچے کے طور پر گزرا ۔


وی او اے اردو سے بات کرتے ہوئےشاہ نے اپنے بچپن کی زندگی کو بیان کرتے ہوئے کہا ؛کہ پانچ سال کی عمر میں والدہ کا انتقال ہوا۔اور اسکے بعد غربت کی زندگی کے تلخ حقائق کا مقابلہ کیا۔کراچی کے علاقے لیاری کی سڑکوں پر دن رات بسر کئے۔ جب لیاری میں باکسنگ شروع کی اس وقت میری عمر آٹھ سال تھی اور ساتھ میں مزدوری بھی کی۔ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ کراچی کی سڑکوں پر سونے والے بچے کی وجہ سے ان کا ملک پہچانا جائے گا۔


شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ساوتھ ایشین گیمز میں پانچ گولڈ میڈلز جیت لئے تھے ۔انہی کامیابیوں کی وجہ سے حکومت پاکستان نے تمغہ انہیں امتیاز سے نوازا گیا۔


حسین شاہ نے اولمپکس گیمز ،کامن ویلتھ اور سیف گیمز سمیت باکسنگ کے بے شمار مقابلوں میں بڑی تعداد میں تمغے جیتے ہیں، کھیل سے رٹائرمنٹ کےبعد باکسنگ کے میدان میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی وجہ سے انھوں نے مختلف ممالک میں ایک کوچ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ حسین شاہ کا مزید کہنا تھا، کہ اب پاکستان میں حالات بدل گئے ہیں اگر کوئی کھلاڑی گولڈ میڈل جیت کے آتاہے تو حکومت کی طرف سے اس کو بڑی بھاری رقم انعام کے طور پر مل جاتی ہیں۔ جبکہ میرے وقت میں ایسا بلکل نہیں تھا۔ مجھے یاد ہے جب میں گولڈ مڈ لز جیت کے آیا تو اس وقت محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھے بیس ہزار روپے انعام کے طور پر دیےتھے۔


شاہ نے کہا کہ پاکستان میں باکسنگ کے میدان میں بہت سے با صلاحیت لوگ موجود ہیں اگر ان کو صحیح تربیت دی جائے تو وہ اس ملک کے لئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔


حال ہی میں عدنان سرور کی ہدایت کاری میں سید حسین شاہ کی زندگی پر مبنی ایک فلم“شاہ” بنائی گئی۔ اس بارے میں حسین شاہ نے کہا کہ جب مجھے عدنان سرور کی کال آئی اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کا بہت بڑا اور پرانافین ہوں، اور میں آپ کی زندگی پر فلم بنانا چاہتا ہوں تو “مجھے بے حد خو شی ہوئی کہ کوئی تو ہے میرا چاہنے والا ”۔


سید حسین شاہ آج کل جاپان میں رہائش پزیر ہیں جہاں پر اپنی پیشہ وارانہ صلاحیت کی بدولت وہ باکسرز کی تربیت کر رہےہیں۔ ان کا بیٹا بھی باکسنگ کے میدان میں تربیت حاصل کر رہا ہے جس کے بارے میں شاہ کا کہنا تھا کہ “میرابیٹا مستقبل میں پاکستان کے لئے کھیلے گا”۔

XS
SM
MD
LG