رسائی کے لنکس

ایران جوہری معاہدے سے متعلق بعض 'ممنوع' دستاویزات جاری


فڈیریکا موگیرینی

دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ تہران تاحال کم افژودہ یورینیم کی حد یعنی 300 کلوگرامز تک نہیں پہنچی۔

جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے "آئی اے ای اے" نے 2015ء میں ایران کے ساتھ ہونے والے بین الاقوامی جوہری معاہدے کی متعدد ایسی دستاویزات اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دی ہیں جن کی اس سے قبل اشاعت ممنوع تھی۔

دستاویز جاری کرنے کی اجازت یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فڈیریکا موگیرینی نے دی تھی۔

جمعہ کو ویب سائٹ پر دستاویزات کے ساتھ موگیرینی کا ایک خط بھی جاری کیا گیا لیکن اس بابت کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی کہ یہ دستاویزات کیوں شائع کی گئی ہیں۔

ان میں سے بعض رواں سال چھ جنوری کی ہیں جو کہ اس معاہدے کے نافذ العمل ہونے سے محض 10 دن پہلے کی ہیں۔

موگیرینی کے دفتر سے جاری خط میں کہا گیا کہ یہ دستاویزات " جوہری معاہدے میں وضع کردہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق نفاذ کی محض وضاحت کرتی ہیں۔"

دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ تاحال ایران کی کم افژودہ یورینیم کی حد یعنی 300 کلوگرامز تک نہیں پہنچی۔ کم افژودہ یورینیم جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی لیکن اس کی مزید افژودگی سے ہتھیاروں کی تیاری کا مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔

جوہری معاہدے میں کہا گیا تھا کہ ایران اپنی جوہری صلاحیت کو صرف توانائی کے لیے استعمال کرے نہ کہ ہتھیاروں کی تیاری کے لیے۔

یہ دستاویزات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب چند ہفتوں بعد ہی نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے منصب کا حلف اٹھانے جا رہے ہیں، جو کہ ایران کے جوہری معاہدے پر شدید تنقید کرتے آئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG