رسائی کے لنکس

آئی سی سی کا کہنا تھا کہ امپائرز کو اب بھی اگر ان دونوں کھلاڑیوں کی باؤلنگ میں کوئی شبہ ہو تو وہ اس بارے میں اطلاع دے سکتے ہیں۔

کرکٹ کی عالمی تنظیم آئی سی سی نے پاکستانی آل راؤنڈر محمد حفیظ کا باؤلنگ ایکشن درست قرار دے دیا ہے۔

گزشتہ نومبر میں پاکستانی کرکٹر کے باؤلنگ ایکشن کو مشکوک قرار دیتے ہوئے ان کے باؤلنگ کروانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جس کے بعد محمد حفیظ نے مشق کر کے اسے درست کیا۔

رواں ماہ ان کے باؤلنگ ایکشن کا تجزیہ بھارتی شہر چنئی میں کیا گیا جس کے نتیجے کے مطابق اب گیند کرواتے ہوئے اس پاکستانی کھلاڑی کا بازو مقرر کردہ 15 درجے کی حد میں ہی رہتا ہے۔

آئی سی سی کے بیان کے مطابق پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کی آف اسپنر جویریہ خان کا بالنگ ایکشن بھی درست قرار دے دیا گیا ہے۔

"دوبارہ تجزیے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گیند کرواتے ہوئے دونوں کھلاڑیوں کی کہنی 15 درجے کے حد میں ہی رہی جو کہ آئی سی سی کی طرف سے مقرر کی گئی حد ہے۔"

آئی سی سی کا کہنا تھا کہ امپائرز کو اب بھی اگر ان دونوں کھلاڑیوں کی باؤلنگ میں کوئی شبہ ہو تو وہ اس بارے میں اطلاع دے سکتے ہیں۔

محمد حفیظ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں باؤلنگ ایکشن درست ہونے کی خبر پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تربیت کاروں، کرکٹ بورڈ اور اپنے اہل خانہ کا شکریہ ادا کیا۔

اس سے قبل پاکستان کے اسپنر سعید اجمل بھی باؤلنگ ایکشن مشکوک ہونے کی وجہ سے پابندی کا سامنا کر چکے ہیں اور بعد ازاں انھیں بھی اس میں درستگی کرنے پر دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ میں حصہ لینے کی اجازت ملی۔

دریں اثناء پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان نے بین الاقوامی کرکٹ کی ملک میں بحالی کی نوید سناتے ہوئے کہا کہ زمبابوے کی ٹیم متوقع طور پر آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گی۔

صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے دبئی میں ہونے والے آئی سی سی کے اجلاس کے موقع پر زمبابوے کے کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے انھیں یقین دلایا کہ ان کی ٹیم پاکستان ضرور آئے گی۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ آرہے ہیں اور اپنی ٹیم کے ساتھ آرہے ہیں لیکن صرف ایک ہفتے کے لیے۔ وہ پہلے اپنی سکیورٹی ٹیم بھیجیں گے جو سکیورٹی کا جائزہ لے گی جس کے بعد وہ دورے کی تصدیق کریں گے۔"

ان کے بقول کوشش ہو گی کہ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے میچ لاہور اور کراچی میں کھیلے جائیں۔

مارچ 2009ء میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سے ٹیسٹ میچ کھیلنے کا درجہ رکھنے والی کوئی بھی بین الاقوامی کرکٹ ٹیم پاکستان نہیں آئی اور اسی بنا پر پاکستان کو دوسرے ملکوں کے ساتھ اپنے میچوں کی میزبانی متبادل مقام یعنی متحدہ عرب امارات میں ہی کرنا پڑی۔

XS
SM
MD
LG