رسائی کے لنکس

جبری شادی انسانیت کے خلاف جرم ہے: بین الاقوامی عدالت

  • صفیہ کاظم

فاتو بن سوڈا

فاتو بن سوڈا

1990ء کی دہائی میں عصمت دری نسل کشی کے ایک حربے کے زٕمرے میں آتی تھی۔ سیرا لیون کی خصوصی عدالت نے جبری شادی کو انسانیت کے خلاف ایک جرم قرار دیا ہے

سنیگال کے دارالحکومت ڈکار میں ہونے والی قانو نی شعبے سے منسلک خواتین کی ایک بین الاقوامی تنظیم کی پانچ روزہ کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے، بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سربراہ ِ استغاثہ فاتو بن سوڈا نے کہا ہے کہ حکومتیں اور برادریاں جنسی جرائم اور عورتوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ کرنے کے بارے میں اب زیادہ پُرعزم نظر آتی ہیںٕ۔

اُن کا کہنا تھا کہ عورتوں پر ہونے والے جنسی تشدد کے بارے میں وہ زیادہ کُھل کر بات کرتی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ دنیا اب جنسی تشدد کو کس انداز سے دیکھتی ہے، وہ اِس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت میں نظر آتا ہے۔

فاتو بن سوڈا کے بقول، تمام ممالک جنسی جرائم کے خاتمے کا عزم کیے ہوئے ہیں، اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ان جرائم کو ختم کرنے کا حل تلاش کیا جائے۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت اس ہفتے اپنی دسویں سالگرہ منا رہی ہے۔ اس وقت زیر سماعت مقدمات میں سرِ فہرست 15مقدمات ہیں۔

ڈکار میں ہونے والی اس کانفرنس میں بن سوڈا نے کہا کہ اُن 15مقدمات میں سے 11کا تعلق جنسی جرائم سے ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری قانون میں جنسی جرائم کو وہ توجہ حاصل ہوگئی ہے جِس کی اُسے قطعی ضرورت تھی۔

1990ء کی دہائی میں عصمت دری نسل کشی کے ایک حربے کے زٕمرے میں آتی تھی۔ سیرا لیون کی خصوصی عدالت نے جبری شادی کو انسانیت کے خلاف ایک جرم قرار دیا ہے۔

تفصیل سننے کے لیے کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG