رسائی کے لنکس

کانگو کے سابق فوجی رہنما کے خلاف مقدمے کا فیصلہ


جرمین کٹانگا (فائل فوٹو)

جرمین کٹانگا (فائل فوٹو)

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کٹانگا نے عسکری گروپ کو منظم کرنے میں مدد کی جس نے بعد میں 200 لوگوں کو ملک کے بوگارو گاؤں میں قتل کیا۔

انٹرنیشل کریمنل کورٹ یا بین الاقوامی فوجداری عدالت نے کانگو کے سابق عسکری رہنما جرمین کٹانگا کو افریقی جمہوریہ ریاست میں 2003 میں ہونے والے قتل عام میں جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیا ہے۔

جمعہ کو عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کٹانگا نے عسکری گروپ کو منظم کرنے میں مدد کی جس نے بعد میں 200 لوگوں کو ملک کے بوگارو گاؤں میں قتل کیا۔

ہیگ میں قائم عدالت نے جب فیصلہ سنایا تو کٹانگا اس وقت عدالت میں ہی موجود تھے اور انہوں نے اس پر کسی بھی طرح کے رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔

جج برونو کوٹ نے کہا کہ تفتیش کار یہ نہ ثابت کر سکے کہ کٹانگا نے لڑائی میں براہ راست حصہ لیا تھا اور پیڑیاٹک ریززٹنس فورس پر ان کا براہ راست کنٹرول تھا۔ لیکن عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کٹا نگا نے صرف حملے کی منصوبہ بندی کرنے میں مدد دی تھی۔

کٹانگا ان الزمات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا جنگجوؤں پر براہ راست کنٹرول نہیں تھا اور اس وقت وہ اس علاقے میں موجود بھی نہیں تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔

عدالت نے کہا کہ کٹانگا اس وقت تک حراست میں رہیں گے جب تک ان کو سزا نہیں سنائی جاتی لیکن عدالت نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ ان کو کس دن سزا سنائی جائے گی۔

عالمی عدالت نے 2009 میں کٹانگا اور ان کے ایک ساتھی عسکری راہنما ماتھئی گڈجولو کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع کی لیکن ماتھئی کو ناکافی شہادتوں کی وجہ سے بری کر دیا گیا تھا۔

کانگو کی خانہ جنگی کے آخری مراحل میں بوگورو میں قدرتی وسائل پر قبضہ کے لیے لڑائی چھڑ گئی تھی۔
XS
SM
MD
LG