رسائی کے لنکس

پاکستان میں تیز رفتار انٹرنیٹ سہولت کی فراہمی پر زور

  • یاسر علی منصوری

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تعلیم و صحت سمیت مختلف شعبوں میں ترقیاتی اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی خصوصاً ٹیلی مواصلات کی سہولتوں کے فروغ کے لیے سرگرم کارکنوں نے ملک میں براڈ بینڈ یعنی تیز رفتار انٹرنیٹ کے نظام کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام تعلیم و صحت سمیت مختلف شعبوں میں ترقیاتی اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) نے دنیا بھر میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں باقاعدگی کے ساتھ اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں برس کے اختتام تک ان افراد کی تعداد تقریباً 2.7 ارب تک پہنچ جائے گی۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ سے متعلق آئی ٹی یو کی حال ہی میں جاری کی گئی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں اعداد و شمار حوصلہ افزا نہیں کیوں کہ یہاں 10 فیصد سے بھی کم افراد انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔

اگرچہ پاکستان دنیا کے سب سے کم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل نہیں، پھر بھی اس کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود پیمانے اور نسبتاً مہنگے داموں پر دستیاب ہے، جس کے باعث کم تعداد میں افراد انٹرنیٹ سے جڑے فوائد سے استفادہ کر رہے ہیں۔

انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز (آئی سی ٹیز) کے فروغ کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم بائٹس فار آل کے کنٹری کوارڈینیٹر شہزاد احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی سہولت اور اس کا استعمال بتدریج بڑھ رہا ہے مگر صارفین کو آن لائن مواد تک حقیقی رسائی پر تحفظات بدستور موجود ہیں۔

اُن کے بقول حقیقی رسائی میں ملٹی میڈیا کنٹنٹ تک رسائی کی سہولت سرفہرست ہے۔

’’مثال کے طور پر اگر ہم کوئی وڈیو لیکچر یا ای ہیلتھ کی سروسز سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو اس کے لیے معیاری اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت درکار ہو گی، جو ابھی صرف بڑے شہروں میں دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ نرخوں کے لحاظ سے بھی انٹرنیٹ کی سہولت ہر کسی کی پہنچ میں نہیں۔‘‘

فکسڈ براڈبینڈ یعنی ٹیلی فون کے زمینی نظام کے ذریعے مہیا کی جانے والی انٹرنیٹ کی سہولت کے نرخوں کے لحاظ سے پاکستان عالمی سطح پر 126 ویں جب کہ علاقائی سطح پر 25 ویں نمبر پر ہے۔

انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق پاکستان میں آئی سی ٹیز تک لوگوں کی رسائی اور ان کے استعمال میں اضافہ کرکے مختلف شعبوں سے متعلق اقوام متحدہ کے متعین کردہ ملینیم ڈویلپمنٹ گولز کے حصول میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

شہزاد احمد نے کہا کہ پاکستان میں معیاری اور نسبتاً سستے داموں پر انٹرنیٹ کی فراہمی سے درس و تدریس کے میدان میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

’’ہمارے ہاں ورچوئل یونیورسٹی اور علامہ اقبال یونیورسٹی جیسے ادارے موجود ہیں ... اگر ملک بھر میں معیاری انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہو گی تو طلبا و طالبات کے لیے بہت آسانی ہو جائے گی۔ اس ہی طریقے سے طب سمیت دیگر شعبوں سے وابسطہ لوگوں کو جب تک معیاری انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہو گی وہ کوئی با معنی آن لائن کام نہیں کر سکیں گے۔‘‘

پاکستان کی وزارتِ برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام کا کہنا ہے کہ حکومت ملک میں انٹرنیٹ کی سہولت کے تیزی سے پھیلاؤ کا عزم رکھتی ہے، جس کے لیے ناصرف آپٹک فائبر کے نظام کو یونین کونسل کی سطح تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے بلکہ 3G سروسز کی فراہمی کے لیے لائسنس کی نیلامی کا عمل میں آئندہ برس فروری تک مکمل کر لیا جائے گا۔

حکام نے بتایا کہ انٹرنیٹ کے فوائد سے بھرپور استفادہ کے لیے سرکاری محکموں میں ای گورننس کی سہولتوں کی فراہمی پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG