رسائی کے لنکس

مسلم پرسنل لا بورڈ، الہ آباد فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا

  • سہیل انجم

مسلم پرسنل لا بورڈ، الہ آباد فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا

مسلم پرسنل لا بورڈ، الہ آباد فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بابری مسجد کی ملکیت کے سلسلے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہفتے کے روز لکھنوٴ کے نھدة العلماء میں چار گھنٹے تک چلنے والے اجلاس میں اتفاقِ رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا۔

بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی کی صدارت میں ہونے والے اِس اجلاس میں 51ارکان نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد بورڈ کے ایک عہدے دار عبد الرحیم قریشی نے نامہ نگاروں کو اِس کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ بورڈ اِس کیس میں خود فریق بنے گا یا نہیں ، اِس کا فیصلہ بورڈ کی قانونی کمیٹی کرےگی۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے 30ستمبر کو فیصلہ سناتے ہوئے متنازعہ بابری مسجد کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرکے دو حصے ہندوؤں کو اور ایک حصہ مسلمانوں کو دینے کی ہدایت دی تھی جسے مسلم پرسنل لا بورڈ نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

مسلمانوں کی بڑی اکثریت بھی اِس فیصلے سے خو ش اور مطمئن نہیں ہے کیونکہ لگتا ہے کہ یہ فیصلہ قوانین اور شواہد کی بنیاد پر نہیں بلکہ ہندؤں کے اِس عقیدے کی بنیاد پر سنایا گیا تھا کہ بابری مسجد کی جگہ پر رام پیدا ہوئے تھے، اور وہاں پہلے سے موجود رام مندر کو توڑ کر بابری مسجد کی تعمیر کی گئی تھی۔

اِس سے قبل، اِس مقدمے کا ایک فریق، ہندو مہاسبھا پہلے ہی سپریم کورٹ میں پہنچ چکا ہے اور عدالت ِ عظمیٰ سے درخواست کر رکھی ہے کہ اُس کو سنے بغیر کوئی فیصلہ نہ سنایا جائے۔

XS
SM
MD
LG