رسائی کے لنکس

ملک میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے ادارے "مائن ایکشن کوآرڈینیشن سنٹر فار افغانستان" کے ڈائریکٹر محمد صدیق راشد کا کہنا ہے کہ دیسی ساختہ بم "اندھا ہتھیار" ہے جو شہریوں کو بلا امتیاز نشانہ بناتا ہے۔

جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان سے گو کہ بیشتر بین الاقوامی افواج تیرہ سال بعد اپنے وطن واپس جا چکی ہیں لیکن اس کے بعد بھی حالیہ مہینوں میں یہاں طالبان کی تشدد پر مبنی کارروائیوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے۔

دیسی ساختہ بم عسکریت پسندوں کا ایک اہم ہتھیار ہے جسے وہ سکیورٹی فورسز اور سرکاری املاک پر حملوں کے لیے بہت پیمانے پر استعمال کرتے آ رہے ہیں۔

محمد ناصر اتمار کابل کے رہائشی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ایک روز وہ اپنے گھر میں تھے کہ انھوں نے ایک زودار دھماکے کی آواز سنی۔ انھوں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو دھوئیں کے سیاہ بادل دکھائی دیے اور یہ لمحہ ان کے لیے خوف سے کم نہیں تھا۔ "میں باہر گیا تاکہ دیکھ سکوں کہ کسی کو کوئی مدد درکار ہو۔"

اگست میں ہونے والا یہ دھماکا سویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے وقت تعمیر کیے گئے ایک رہائشی علاقے میں ہوا جس میں کم ازکم 12 افراد ہلاک اور 66 زخمی ہو گئے تھے۔

یہ دھماکا دیسی ساختہ بم سے کیا گیا جو کہ ایک گاڑی میں نصب کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ یہ کہہ چکا ہے کہ افغانستان میں جاری تنازع کے باعث سب سے زیادہ متاثر عام شہری ہوئے ہیں اور اب اس تنازع کو ختم ہونا چاہیئے۔

طالبان ویسے تو پورے افغانستان میں ہی کارروائیاں کرتے آ رہے ہیں لیکن مشرقی اور جنوبی حصے میں ان کی سرگرمیاں خاصی تیز ہیں۔

ان علاقوں میں مقامی اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں بھی اپنے منصوبے شروع کرنے سے گریزاں ہیں جس کی وجہ آئے روز سڑک میں نصب بم دھماکے اور دیسی ساختہ بم حملے ہیں۔

بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق ایک غیر سرکاری تنظیم کے ڈائریکٹر شہاب حکیمی کہتے ہیں کہ دیسی ساختہ بم افغانستان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے صوبہ وردک کے ضلع چرخ میں ایک شفاخانہ کھولنے کے لیے جانے والے دو انجینیئرز سڑک میں نصب بم کا نشانہ بن کر موت کا شکار ہوگئے تھے جس کے بعد یہ منصوبہ ملتوی کردیا گیا۔

زابل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بوجہ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کابل۔قندھار شاہراہ پر عسکریت پسندوں نے متعدد پلوں کو ان بموں سے اڑایا جس کا خمیازہ عام شہریوں کو خصوصاً سیلاب کے دنوں میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے گزشتہ ماہ جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ رواں سال پہلے چھ ماہ میں 1600 سے لگ بھگ عام شہری ہلاک اور تقریباً 3300 زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں دیسی ساختہ بم دھماکوں اور مسلح جھڑپوں کی زد میں آنے کی وجہ سے ہوئیں۔

ملک میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے ادارے "مائن ایکشن کوآرڈینیشن سنٹر فار افغانستان" کے ڈائریکٹر محمد صدیق راشد کا کہنا ہے کہ دیسی ساختہ بم "اندھا ہتھیار" ہے جو شہریوں کو بلا امتیاز نشانہ بناتا ہے۔

"ہر ماہ افغانستان میں دیسی ساختہ بموں سے لگ بھگ ایک سو معصوم شہری ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں۔ ایسے درجنوں واقعات ہیں جن میں شہریوں کو لے جانے والی بسیں سڑک میں نصب ان بموں کا نشانہ بنیں۔"

جنوبی صوبہ ہلمند سے تعلق رکھنے والے علی زئی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان ایک مستقل خوف میں زندہ ہیں۔ ان کے بقول دیسی ساختہ بم بغیر کسی تفریق کے لگا دیے جاتے ہیں اور صرف چند ہی عسکریت پسندوں کو اس کا پتا ہوتا ہے۔

"اور جب فضائی کارروائیوں یا افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں عسکریت پسند مارے جائیں تو کسی کو نہیں پتا کہ انھوں نے یہ بم کہاں نصب کیے۔ یہ عام افغان شہری کے لیے جہنم سے کم صورتحال نہیں کہ وہ جس خوف کے زیر اثر سڑکوں پر سفر کرتے ہیں۔"

افغانستان ایک زمانے میں دنیا کے ان ملکوں میں سرفہرست تھا جہاں سب سے زیادہ بارودی سرنگیں موجود تھیں۔ بارودی سرنگیں صاف کرنے والے ادارے کے عہدیدار حکیمی کا کہنا ہے کہ بہت سا غیر استعمال شدہ اسلحہ ہٹایا جا چکا ہے جس کی وجہ سے عطیہ دینے والے ممالک نے یہاں کارروائیوں کے لیے اپنی اعانت کو بھی کم کر دیا ہے۔

انکے بقول دیسی ساختہ بم افغانستان کے لیے ایک مستقل مسئلہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG