رسائی کے لنکس

'اگنوبیل' انعام اور کافی کی دکان میں کیمیا دان

  • جمیل اختر

'اگنوبیل' انعام اور کافی کی دکان میں کیمیا دان

'اگنوبیل' انعام اور کافی کی دکان میں کیمیا دان

اگنوبیل انعامات گذشتہ 20 برسوں سے دنیا بھر میں ہونے والی ان سائنسی تحقیقات پر دیے جارہے ہیں جن کو غیر سنجیدہ سمجھتے ہوئے عموماً نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ لیکن ان ریسرچز میں سوچ بچار کے کئی انوکھے نکتے موجود ہوتے ہیں۔ ان کا انتخاب ہاروڈ یونیورسٹی کے ماہرین کرتے ہیں اور یہ انعامات ایک رنگارنگ تقریب میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔

بہت کم لوگوں کو یہ علم ہے کہ ناورے کے نوبیل انعام کی طرز پر امریکہ میں بھی انہی دنوں’اگنوبیل پرائز ‘ کے نام سے ایک انعامی تقریب ہوتی ہے۔ جس میں، انعام یافتگان کے علاوہ ریاست میسا چوسٹس کی ایک قدیم اور ممتاز یونیورسٹی ہاورڈ کی سائنس کی تنظیمیں اور نوبیل انعام یافتہ شخصیات، تعلیمی اداروں کے پروفیسراور شہرکی اہم شخصیات شرکت کرتی ہیں۔

اگنوبیل انعام بھی کم وبیش انہی شعبوں میں پیش کیا جاتا ہے جن میں نوبیل انعام دیے جاتے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ نوبیل انعام کی تقریب ایک سنجیدہ تقریب ہوتی ہے جب کہ اگ نوبیل ایوارڑ ز کے موقع پر پوری محفل میں قہقے گونج رہے ہیں ۔

نوبیل پرائز سنجیدہ موضوعات اور ایسی تحقیق پر دیے جاتے ہیں جوانسان کے لیے فائدہ مند ہوں۔ جب کہ اگنوبیل انعامات بھی سائنسی تحقیق پر ہی دیے جاتے ہیں، مگر انتہائی غیر سنجیدہ موضوعات پر۔ ایوارڈ دینے والوں کا کہنا ہے کہ ہم ایسی تحقیق کا انتخاب کرتے ہیں جسے سن کر پہلے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ آئے اور پھر انسان اس کے بارے میں سوچے۔ مثلاً پچھلے سال سائنس کا انعام جس تحقیق پر دیا گیا تھا اس کا موضوع تھا کہ ہدہد کے سر میں درد کیوں نہیں ہوتا۔

نوبیل پرائز جیتنے والوں کو شیلڈ کے ساتھ ایک خطیر رقم بھی انعام میں ملتی ہے جب کہ اگنوبیل ایوارڈ پانے والوں کوآنے جانے کا کرایہ بھی اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتاہے، لیکن پھر بھی ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ جس کے نام کا اعلان کیا جائے وہ دور دراز کا سفر کرکے ایوارڈ حاصل کرنے نہ آئے۔

اس سال انعامات کی تقریب میں سب سے دلچسپی منظر کیمسٹری کا ایوارڈ دینے کا تھا۔ اس موقع پر ایک مزاحیہ اوپرا پیش کیا گیا جس کا عنوان تھا’ کیمیادان کافی کی دکان میں‘۔

امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر کیمبرج کی معروف ہاروڈ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی ایوارڈ کی تقریب میں 1200 سے زیادہ افراد شریک ہوئے۔ اگرچہ سب مہمان آئے تواپنے خرچے پر تھے، لیکن ان کی توضع انعامی کمیٹی کی جانب سے مشروبات اور بسکٹوں سے کی گئی ، جس کا ان سے کوئی پیسہ نہیں لیا گیا۔

کیمسٹری کا انعام جاپان کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم کوایک جاپانی بوٹی ’وسابی‘ پر ان کی تحقیق پر دیا گیا۔ اس بوٹی کی خوشبوبہت تیز ہوتی ہے۔ پروفیسر مارکوٹو ایمائی کی تحقیق کا موضوع تھا کہ اس کی خوشبو سے، ہنگامی حالات میں گہری نیند سوئے ہوئے افراد کو اٹھایا جاسکتا ہے۔ اور ان کا ’وسابی الارم‘ مروجہ فائرالارم کا متبادل بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وسابی الارم کی خوبی یہ ہے کہ وہ جگانے کے لیے نہ تو شور کرتا ہے اور نہ ہی آنکھیں چندھیا دینے والی روشنی خارج کرتا ہے۔ قہقوں کے طوفان کے باوجود وہ اپنی تحقیق میں اتنے سنجیدہ تھے کہ اس ایجاد کے حقوق محفوظ کرانا چاہتے ہیں ۔

سائیکلوجی کا اگنوبیل انعام ناورے کی اوسلو یونیورسٹی کے پروفیسر کارل ہالور ٹیجن کو ملا۔ ان کی تحقیق کا موضوع تھا کہ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں ٹھنڈا سانس کیوں بھرتے ہیں اور دکھ کے اظہار کا دوسرا مناسب طریقہ کیا ہوسکتا ہے۔

امریکہ کی سٹین فورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر جان پیری کو ان کی اس تحقیق پر انعام کا حق دار ٹہرایا گیا کہ کامیابی انہیں ملتی ہے جو کام سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔

طب کا انعام براؤن یونیورسٹی کے پیٹر سنائیڈر کو ملا جنہوں نے اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا تھا کہ جب پیشاب بہت زور سے آیا ہوا ہو تو اس میں الکوحل کے اثرات پیدا ہوجاتے ہیں۔ امریکہ میں شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے پر پابندی ہے اور پولیس عموماً پیشاب کے ٹیسٹ سے شراب نوشی کا پتا لگاتی ہے۔

ریاضی کا ایوارڈ ان چھ افراد کو دیا گیا جنہوں نے گہرے غوروخوص ، تحقیق اور جمع تفریق کے بعد یہ بتایا تھا کہ قیامت کب آئے گی۔ امریکہ کے ڈورتھی مارٹن نے 1954 میں دنیا کے ختم ہونے کے پیش گوئی کی تھی۔ امریکہ ہی کی الزبتھ کلیئر نے 1982 کو دنیا کا آخری سال قرار دیا تھا۔ کوریا کے لی جنگ رم کی پیش گوئی میں 1992 میں قیامت کی نشان دہی کی گئی تھی جب کہ یوگنڈا کی کریڈونا ورنڈے نے 1999ء میں دنیا کے اختتام کا اعلان کیا تھا ۔ امریکہ کے ہیرالڈ کیمپنگ نے اپنی تازہ تحقیق میں کہا ہے کہ اس سال 21 اکتوبر کو دنیا ختم ہوجائے گی۔ لیکن اعدادوشمار کے ان ماہرین میں سے کوئی ایک بھی اپنا انعام وصول کرنے نہیں آیا۔

امن کا اگنوبیل پرائز لیتھونیا کے شہر ول نس کے میئر آرٹورس زوکاس کو ان کی اس تحقیق پر دیا گیا کہ مہنگی گاڑی کی غیر قانونی پارکنگ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایک بکتر بند گاڑی بھی اپنے ساتھ رکھی جائے۔ اس موقع پر ان کی ویڈیو بھی پیش کی گئی جس میں وہ ایک قیمتی مرسیڈیز کار میں سوار ہوکر بکتر بند گاڑی کے ساتھ شہر کی سڑکوں پر گشت کررہے ہیں۔

اگنوبیل انعام کا آغاز 1991 ء میں ہوا تھا اور تب سے مسلسل ہر سال اکتوبر میں دیا جارہا ہے۔ ایوارڈ ز کے لیے تحقیق کا انتخاب اور اس منفرد تقریب کا انتظام ایک مزاحیہ سائنسی جریدہ Annuls of Improbable Research، ہاروڈ یونیورسٹی کی مختلف سائنس سوسائٹیز کے تعاون سے کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG