رسائی کے لنکس

60 کروڑ ملازمتوں کا چیلنج


60 کروڑ ملازمتوں کا چیلنج

60 کروڑ ملازمتوں کا چیلنج

عالمی ادارہ محنت نے کہاہے کہ اگلے دس سال کے عرصے میں دنیا کو روزگار کے 60 کروڑ نئے مواقعوں کے چیلنج کا سامنا ہے۔ ادارے کا کہناہے کہ مسلسل تین سال تک عالمی سطح پر لیبر مارکیٹ جس بحران سے گذرتی رہی ہے، اس سے نکلنے اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے اتنی بڑی تعداد میں نئی ملازمتیں پیدا کیا جانا ضروری ہے۔

عالمی ادارہ محنت نے 2012ء کے ملازمتوں کے رجحان پر اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ نئے سال کے آغاز پر دنیا کے سامنے ملازمتوں کی کمی کا ایک سنجیدہ چیلنج موجودہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 20 کروڑ ملازمتوں کی کمی ہے۔ جب کہ اگلے دس سال کے عرصے میں آبادی میں اضافے اور وقت کے تقاضوں کے پیش نظر 40 ہزار نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2011ء کا سال ملازمتوں کے مواقعوں کے لحاظ سے زیادہ اچھا سال نہیں رہا۔ اور ملازمتوں کی تخلیق کے اعتبار سے دنیا ابھی تک پوری بڑے پیمانے کے اقتصادی اور مالیاتی بحران کےاثرات سے باہر نکل نہیں پائی ہے۔2011ء کے دوران جنم لینے والے نئے بحران مستقبل میں لیبر مارکیٹ پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

رپورٹ میں معاشی بحران سے نکلنے کے دعوؤں کے پس منظر میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی شعبے میں آنے والی بہتری بہت معمولی ہے اور اگر افزائش کی رفتار یہی رہی تو ہمیں بحران کے آغاز سے قبل کی سطح پر جانے میں طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔

رپورٹ میں نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سب سے آخر میں ملازمتیں نئی نسل کے افراد کو دی جاتی ہیں اور بدقسمتی یہ ہے کہ جب کسی کو نوکری سے نکالنے کا مرحلہ آتا ہے تو سب سے پہلے نوجوانوں کو ہی نکالا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کے بارے میں یہ سوچا جاتا ہے کہ وہ ابھی ناتجربہ کار ہیں اور زیادہ خوش اسلوبی سے کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

رپورٹ میں کہا گیاہے کہ عالمی کساد بازاری کے دوران سب صحارا افریقی ممالک کی معاشی کارکردگی بہتر رہی ہے مگر اس کے باوجود وہاں بہتر سطح کی ملازمتوں کے زیادہ تعداد میں مواقع پیدا نہیں کیے جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق افریقہ میں زیادہ تر ملازمتوں کا تعلق اب بھی زرعی شعبے سے ہے اور چونکہ زراعت میں اکثر اوقات گھر کے تمام افراد کام کرتے ہیں اس لیے اکثر کو اپنے کام کا معاوضہ بھی نہیں ملتا۔

عالمی ادارہ محنت کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملازمتوں کے نئے مواقعوں کا زیادہ تر انحصار عالمی کساد بازاری کے اثرات سے نکلنے پر ہے۔ لیکن قومی سطح پر حکومتیں نئی ملازمتوں کی تخلیق میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں۔

ادارے کا کہناہے کہ اگر حکومتی ادارے مارکیٹ کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیم اور تربیت کی سہولتیں فراہم کریں ، اور ایسے مراکز قائم کریں جو ملازمتیں فراہم کرنے والوں اور روزگار کے خواہش مند افراد کے درمیان بہتر رابطے کا کام کرسکیں تو اس سے کاروبار پھلیں پھولیں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

عالمی ادارہ محنت کا کہناہے کہ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی سب سے زیادہ گنجائش منصوعات تیار کرنے والے شعبے میں ہے۔

XS
SM
MD
LG