رسائی کے لنکس

عالمی معیشت کی حالت پتلی ہے، آئی ایم ایف کا انتباہ


آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹینا لگارڈ

آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹینا لگارڈ

'آئی ایم ایف' کے مطابق آئندہ کئی برسوں تک دنیا بھر کی معیشتوں کی شرحِ نمو سست رہنے کی توقع ہے اور اسی باعث بیشتر حلقوں نے اس صورتِ حال کو "معمول" سمجھ کر قبول کرلیا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ عالمی معیشت 2008ء میں آنے والے اقتصادی بحران کے اثرات سے بڑی بہت حد تک سنبھل گئی ہے لیکن اب بھی اس کی حالت اطمینان بخش نہیں۔

بدھ کو واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے 'آئی ایم ایف' کی سربراہ کرسٹینا لگارڈ نے خبردار کیا کہ کرائمیا کے روس کے ساتھ الحاق کے نتیجے میں ماسکو اور مغرب کے درمیان پیدا ہونے والا تنازع اور دوسرے سیاسی بحران عالمی معیشت کی شرحِ نمو کو متاثر کرسکتے ہیں۔

کرسٹینا لگارڈ کا کہنا تھا کہ اگر عالمی رہنماؤں نے ملازمتوں کےنئے مواقع پیدا کرنے اور دنیا بھر میں معیارِ زندگی بلند کرنے سے متعلق پالیسیاں نہ بنائیں تو بین الاقوامی معیشت کی ترقی کی رفتار سست ہی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ کئی برسوں تک دنیا بھر کی معیشتوں کی شرحِ نمو سست رہنے کی توقع ہے اور اسی باعث بیشتر حلقوں نے اس صورتِ حال کو "معمول" سمجھ کر قبول کرلیا ہے۔

'آئی ایم ایف' کی سربراہ نے کہا کہ گزشتہ سال عالمی معیشت کی شرحِ نمو تین فی صد رہی تھی جس میں اس سال اور آئندہ برس کچھ اضافہ ہونے کی توقع ہے۔

کرسٹینا لگارڈ نے عالمی معیشت کی صورتِ حال پر یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب دنیا بھر سے سیکڑوں معاہرینِ معاشیات اور حکومتی عہدیداران 'ورلڈ بینک' اور 'آئی ایم ایف' کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے آئندہ ہفتے واشنگٹن میں جمع ہورہے ہیں۔

ان اجلاسوں میں بین الاقوامی معیشت کی صورتِ اور عالمی معاشی نظام میں اصلاحات کا معاملہ حال زیرِ غور آئے گا۔
XS
SM
MD
LG