رسائی کے لنکس

امریکہ میں تارکین وطن خواتین کے دوران کار مسائل

  • برنارڈ شسمین

امریکہ میں تارکین وطن خواتین کے دوران کار مسائل

امریکہ میں تارکین وطن خواتین کے دوران کار مسائل

بالکل ابتدائی دور سے جب ڈچ آباد کار یہاں آنے شروع ہوئے نیو یارک امریکہ آنے والے تارکین ِ وطن کی پہلی منزل رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں افریقہ کے تارکین وطن بھی نیو یارک آنے لگے ہیں۔

1980ء سے اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ افریقی تارکین ِ وطن امریکہ پہنچے ہیں اور ان میں سے بہت سے نیو یارک میں آباد ہو گئے ہیں۔ لیکن ان کی آمد کے ساتھ ہی کچھ معاشرتی مسائل بھی پیدا ہوئےہیں خاص طور سے مغربی افریقہ کی نوجوان عورتوں کے لیے جو اس شہر میں کام کرتی ہیں۔
مغربی افریقہ کے تارکین وطن کی ایک بڑی بستی نیو یارک میں برونکس کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ بڑے محنتی اور مذہبی لوگ ہیں جو ایک بالکل مختلف ماحول میں اپنے لیے اور اپنے گھرانے کے لوگوں کے لیے نئی زندگی بنا رہے ہیں۔

بہت سی عورتیں،آیا ، یا گھریلو ملازمہ کے طور پر یا ہوٹلوں میں کام کرتی ہیں یا اسکول کالج جاتی ہیں۔ اور بہت سی عورتیں خوفزدہ رہتی ہیں، جیسے فاتئو نام کی یہ خاتون جو گھریلو ملازمہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’مجھے لوگوں سے بات کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ کہیں میری ملازمت نہ چلی جائے۔‘‘

فاتئو کہتی ہیں کہ ایک مالک کے بیٹے نے اس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ ایک لحاظ سے یہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سابق سربراہ

ڈومینک اسٹارس کان جیسا کیس تھا جن پر مغربی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ہوٹل کی ایک ملازمہ پر حملہ کرنے کا الزا م ہے اور جو اب مقدمہ چلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

Dorchen Leidoholdt ایک گروپ کی ڈائریکٹر ہیں جس کا نام سینکچری فار فیمیلیز ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمارا گروپ تارکین وطن عورتوں کی مدد کی کوشش کرتا ہے۔’’دوسرے ملکوں سے آئی ہوئی عورتوں، خاص طور سے تارکین وطن نوجوان عورتوں کو کام کی جگہ پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق لاطینی امریکہ، ایشیا، یا افریقہ سے ہوتا ہے جیسا کہ اس کیس میں تھا۔ ان کو روزگار دینے والے، ان کے ساتھ کیسا ہولناک سلوک کرتےہیں، اس بارے میں ہم افسوسناک کہانیاں سنتے ہیں۔‘‘

دی نیشنل ڈومیسٹک ورکرز الائینس ایسے بین الاقوامی قانون کا مطالبہ کر رہی ہے جس کے تحت کام کی جگہ پر پریشان کرنے کی ممانعت ہو گی۔ Ai-Jen Poo کہتی ہیں کہ گھریلو ملازماؤں اور ہوٹل کی خادماؤں کے مسائل ایک جیسے ہیں۔’’گھریلو کام کی صنعت میں ہم ان مسائل کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں کوئی قاعدہ قانون نہیں ہے۔ سب چلتا ہے ۔کوئی ضابطہ نہیں ہے، کوئی معیار نہیں ہے، اور بہت کم تحفظ ہے۔انفرادی ورکرز کو جو اکثر تنہا ہوتےہیں، خود اپنے حقوق کے لیے لڑنا پڑتا ہے ۔‘‘

مین ہٹن کے جان جے کالج میں ، گنی کی رہنے والی میری ٹوئر سے کہا گیا کہ اگر وہ جنسی تعلقات قائم کرنے پر تیار ہو جائے تو اسے بہتر گریڈ مل سکتا ہے۔ اس نے بتایا’’یہ بڑی مشکل صورتِ حال تھی۔ مجھے اپنا گریڈ پوائنٹ ایوریج بھی قائم رکھنا تھا۔ اگر کوئی پروفیسر جسے آپ کی حفاظت کرنی چاہیئے ،آپ سے اس قسم کی بات کہے ، تو آپ کیا کریں گے ۔‘‘

کونسلر میریاما ڈیالو بھی مغربی افریقہ کی رہنے والی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کام کی جگہ پر یا اسکول میں، اس قسم کے نفسیاتی اثرات اور خطرات بڑے شدید ہوتےہیں۔’’جب یہ عورتیں اپنے تجربات بیان کرتی ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر کتنا زیادہ اثر ہوا ہے ۔ آپ ان کی نفسیاتی کیفیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ وہ ڈراؤنے خواب دیکھتی ہیں، ان کی نیند اڑ جاتی ہے، اور جب وہ ہمارے پاس آتی ہیں تو ان کے آنسو نہیں تھمتے۔‘‘

تارکین وطن کے معاملات کے لیے نیو یارک سٹی کی کمشنر، فاطمہ شمع کہتی ہیں کہ نیو یارک سٹی اور ریاست ان عورتوں کی مدد کی کوشش کر رہی ہے ، اور انہیں یقین دلا رہی ہے کہ انہیں مدد مل سکتی ہے، چاہے ان کے پاس امریکہ میں رہنے کے کاغذات ہوں یا نہ ہوں۔’’ہم جانتے ہیں کہ یہ عورتیں خوفزدہ ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بدقسمتی سے ہماری کمیونٹیوں میں کیا ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج کی بات چیت کے ذریعے، یہ بات دہرا سکتے ہیں کہ ایسی ایجنسیاں اور ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں اور ان کی خیر و عافیت میں دلچسپی لیتے ہیں، کوئی امیگریشن کا مسئلہ ہو، غیر قانونی قیام کا مسئلہ ہو، یا کوئی اور مسئلہ جس میں صارفین کی حفاظت نہیں کی جا رہی ہے یا انہیں ستایا جا رہا ہے۔‘‘

سینٹر فار بیٹرڈ وومینز لیگل سروسز کے مطابق، یہ حقیقت کہ اسٹرائس کاہن کیس میں، متعلقہ عورت نے ہمت کی اور اس واقعے کی رپورٹ پولیس کو کردی، کام کرنے والی تارکین وطن عورتوں اور طالبات کے لیے نفسیاتی طور پر انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG