رسائی کے لنکس

پاکستانی نژاد امریکی صدیق شیخ اپنے ہم وطنوں کا مقدر سنوارنا چاہتے ہیں


پاکستانی نژاد امریکی صدیق شیخ اپنے ہم وطنوں کا مقدر سنوارنا چاہتے ہیں

پاکستانی نژاد امریکی صدیق شیخ اپنے ہم وطنوں کا مقدر سنوارنا چاہتے ہیں

صدیق شیخ کی جانب سے تیس سال قبل خریدا جانے والا ایک سروس سٹیشن امریکہ میں انکی جدوجہد کا نقطہ ِ آغاز تھا۔ بعد میں انہوں نے مزید کئی پٹرول پمپس خریدے۔ لیکن اتنی کامیابی کے باوجود پاکستان سے آنے والے صدیق شیخ اپنی روایات نہیں بھولے۔ ان کا انداز سٹیشن پر کام کرنے والے افراد اور گاہکوں کے ساتھ دوستانہ ہوتاہے۔

صدیق شیخ بھی بہت سے دوسرے تارکین ِ وطن کی طرح امریکہ آتے وقت کامیابی کے خواب اپنے ساتھ لائے تھے۔ پاکستان چھوڑتے وقت انہیں اپنے والد کی طرف سے نہایت قلیل مالی مدد ملی تھی ۔ انہوں نے مختلف جز وقتی ملازمتوں کےساتھ ساتھ آٹو انجنیئرنگ کا کورس مکمل کیا اور پیسے جمع کرکے ایک سروس سٹیشن خریدا ۔

وہ کہتے ہیں کہ جتنے پیسوں میں اس وقت میں نے یہ سٹیشن خریدا تھا ، شاید اتنے پیسوں میں کوئی اور نہ لیتا کیونکہ یہ سٹیشن نقصان میں جا رہا تھا۔ پہلے تین سال میں نے یہاں دن رات محنت کی۔ صبح پانچ بجے آکر رات کو گیارہ، بارہ بجے گھر جاتا تھا۔

لیکن بالآخر مارکیٹنگ کرنے اور کسٹمرز کے ساتھ نرم برتاؤ کے باعث میری محنت رنگ لائی۔ اور یہ سٹیشن کامیاب ہوا۔

امریکی ریاست ورجینیا کی فئیر فیکس کاؤنٹی سپروائزرایلین مک کونل صدیق شیخ کو جانتی ہیں۔ ان کے علاقے میں کئی ملکوں کے تارکین ِ وطن آباد ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ سبھی افراد محنتی ہیں۔

ان کا کہناہے کہ یہاں آنے والے تارکین ِ وطن امریکہ میں اپنے خوابوں میں رنگ بھرنے آتے ہیں ۔ اور اس لیے محنت کے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی توجہ دیتے ہیں۔

صدیق شیخ کے لیے تعلیم اور محنت دونوں رنگ لائیں۔ ان کا کاروبار وسیع ہونا شروع ہوا اور وہ مزید گیس سٹیشنز خریدتے رہے۔ مگر ان کے بیٹے ہارون کا کہنا ہے کہ ان کا خریدا ہوا سب سے پہلا پیٹرول پمپ ان کے دل سے بہت قریب ہے۔

صدیق شیخ نے کاروبار میں کامیابی کے بعددیگرسرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔وہ ان پاکستانیوں کی مدد کرنا چاہتے تھے جو امریکہ میں نئے تھے۔اسی لیے انہوں نے پاکستان امریکن بزنس ایسوسی ایشن کی بنیاد ڈالی۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب 1980 ءمیں میں نے کاروبار کا آغاز کیا ۔ تو میں نے دیکھا کہ یہاں پر دیگر تنظیمیں اپنی کمیونٹیز کو کاروبار شروع کرنے کے گر سکھا رہی تھیں۔لہذا میں نے ان میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں اپنی کمیونٹی کے لیےایسی ہی ایک تنظیم شروع کی ۔

وہ پاکستان میں تعلیمی نظام بہتر کرنے کے لئے بھی کا م کر رہے ہیں اور اسی لیے انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان طالب علموں کے تبادلے کے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ وہ پورے پاکستان میں کالج بنانا چاہتے ہیں ۔

صدیق شیخ کا کہناتھا کہ میں اپنے وطن کے کام آنا چاہتا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ پاکستان میں لوگ انفرادی طور پر سوچ کر اپنے وطن کے لیے کچھ کر سکیں۔

امریکہ آتے وقت صدیق شیخ کی جیب میں فقط چند ڈالر تھے۔ اس وقت ان کا خواب اپنے اور اپنے خاندان کو ایک بہتر طرز ِ زندگی مہیا کرنا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زندگی کے بارے میں انکا نظریہ بدلتا گیا۔وہ کہتے ہیں کہ خدا بھی یہی چاہتاہے کہ انسانیت کے کام آیا جائے۔ میں اپنی باقی زندگی یہی کرنا چاہوں گا۔

یہی وجہ ہے کہ وہ اپنا تعلیمی مشن مکمل کرکے پاکستان کے لوگوں کے کام آنا چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG