رسائی کے لنکس

امریکہ: سنگاپور کے بلاگر کی سیاسی پناہ کی درخواست منظور


آموس یی (دائیں) سنگاپور کی ایک عدالت میں اپنی والدہ کے ہمراہ آتے ہوئے (فائل فوٹو)

جج کول نے فیصلے میں لکھا کہ "یی نے اپنی سیاسی سوچ کی وجہ سے ماضی میں مقدمات کا سامنا کر کے اس کی قیمت ادا کی ہے اور ان کا یہ خوف بجا ہے کہ سنگاپور میں ان ک ومقدمہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔"

شکاگو کے ایک جج نے جمعہ کو سنگاپور کے اس نوعمر بلاگر کی امریکہ میں سیاسی پناہ کی درخواست منظور کر لی جسے اپنی حکومت پر تنقید کی وجہ سے جیل میں بند کر دیا گیا تھا۔

آموس یی کو امریکہ کے امیگریشن حکام نے گزشتہ سال دسمبر میں اس وقت حراست میں لے لیا تھا جب وہ شکاگو کے او ہیر ائیر پورٹ پر پہنچے تھے۔ اس کیس سے متعلق وکلا کا کہنا ہے کہ 18 سالہ بلاگر کو پیر تک وسکونسن کے حراستی مرکز سے رہا کر دیا جائے گا۔

جج سیموئیل کول نے یی کی سیاسی پناہ کی درخواست پر بند کمرے میں ہونے والی سماعت کے دوہفتوں کے بعد 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا ہے۔

جج کول نے فیصلے میں لکھا کہ "یی نے اپنی سیاسی سوچ کی وجہ سے ماضی میں مقدمات کا سامنا کر کے اس کی قیمت ادا کی ہے اور ان کا یہ خوف بجا ہے کہ سنگاپور میں ان کو مقدمہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔"

آموس کو 2015 اور 2016 میں بعض وڈیو پوسٹس کی وجہ سے چار ہفتوں کی قید کی سزا بھگتنا پڑی اور انھوں نے سنگاپور کو اس لئے چھوڑ دیا کہ وہ امریکہ میں سیاسی پناہ کے متمنی تھے۔ ان پر گزشتہ سال سنگاپو ر میں مسیحیوں اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔

آموس کو 2015 میں سنگاپور کے سابق وزیر اعظم لی کیوان یئو کی وفات کے فوری بعد ان کے بارے میں دیے گئے بیانات اور مذہبی گروپوں کی توہیں کا مرتکب قرار دے کر چارہفتوں کی قید کی سزا سنائی گئی۔

سنگاپور میں اس طرح کی کھلے عام تنقید کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور آموس کے خلاف چلائے جانے والے مقدمہ ک وجہ سے آزادی اظہار اور سنسر شپ کے حوالے سے ملک بھر میں سوالات اٹھائے گئے۔

جج کول نے کہا کہ عدالت میں پیش کی گئی شہادت میں بتایا گیا ہے کہ سنگاپور کی حکومت کا موقف یہ تھا کہ انھیں مذہب کے معاملات کی وجہ سے سزا دی گئی ہے۔ ( لیکن) "اس کا حقیقی مقصد سیاسی خیالات کو دبانا تھا۔"

انہوں نے کہا کہ یی کی جیل کی سزا "غیر معولی طور پر سخت اور طویل تھی" اور خاص طور پر ان کی عمر کے کسی شخص کے لئے۔" یی کی عمر لگ بھگ 18 سال بتائی جاتی ہے۔

واشنگٹن میں سنگاپور کے سفارت خانے کے عہدیداروں نے اس معاملے کے بارے میں بات نہیں کی ہے اور نا ہی سنگاپور کی حکومت نے اس مقدمے پر ردعمل جاننے کے لئے کی گئی درخواست پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

یی کی وکیل سینڈرا گراسمین نے کہا کہ ان کے موکل کو سیاسی پناہ کی اجازت ملنے کی خبروں پر خوشی ہوئی ہے۔ "وہ امریکہ میں ایک نئی زندگی شروع کرنے کے بارے میں بہت خوش ہے۔"

واضح رہے کہ امریکہ کی ہوم لینڈ سکیورٹی کے وکلا نے آموس کی سیاسی پناہ کی درخواست کی اس بنا پر مخالفت کی تھی کہ یی کا معاملہ سیاسی بنا پر ایذا رسانی کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کیا وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے یا نہیں۔ ان کے وکلا اس فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر اپیل کر سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG