رسائی کے لنکس

حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف گزشتہ دو سال سے جاری فیصلہ کن کارروائیوں کو عمومی طور پر سراہا گیا ہے۔

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام اداروں کو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

یہ بیان کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد منگل کی شام فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کی طرف سے جاری ہونے والے اُس اعلامیے کے بعد سامنے آیا جس میں جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے دیرپا نتائج کے لیے حکومت کو بھی ہم پلہ انتظامی اُمور اور طرز حکمرانی کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف گزشتہ دو سال سے جاری فیصلہ کن کارروائیوں کو عمومی طور پر سراہا گیا ہے۔

بیان کے مطابق موجودہ حکومت کی کوششوں سے پیدا کیے گئے سیاسی اتفاق رائے اور مسلح افواج کے بہادر افسران و جوانوں کی قربانیوں، صوبائی حکومتوں کے مربوط تعاون، پولیس اور سول و فوجی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارروائیوں ہی سے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر کامیابی سے عمل درآمد ممکن ہوا ہے۔

حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے بھی ان کوششوں میں مکمل تعاون کیا جب کہ پاکستانی عوام نے بھی دل و جان سے کارروائیوں کی حمایت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے تمام فیصلے کھلے عام اور شفاف انداز میں قومی مفاد میں کیے جب کہ حکومت کی پالیساں اس کے اچھے طرز حکمرانی کی غماز ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق حکومت کے اقدامات کے باعث ملک میں امن و امان کی صورت حال اور اقتصادی ترقی کے اشاریے بہتر ہوئے۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومت عام آدمی کی زندگی میں مثبت بہتری کے لیے انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد سمیت دیگر اقدامات جاری رکھے گی۔

منگل کو راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر میں کور کمانڈرز کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ عسکری کمانڈروں نے انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد، وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں اصلاحات، مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کے کام کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے سمیت اُن تمام اُمور پر غور کیا جن سے ملک میں جاری آپریشنز کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے معروف تجزیہ کار سینیئر صحافی عارف نظامی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس بیان کے بعد عوام میں شکوک و شبہات جنم لے سکتے ہیں کہ حکومت اور فوج ایک صفحے پر نہیں ہیں۔

" میرے خیال میں یہ بیان اس لحاظ سے غیر ضروری تھا کہ جنرل راحیل شریف اور نواز شریف کے درمیان ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں اور اس بیان سے پہلے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی ان تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا اصل بات یہ نہیں ہے کہ یہ بات کی گئی ہے۔ جو پریس ریلیز جاری کی گئی ہے اس سے عوام میں شکوک وشبہات جنم لیں گے کہ حکومت اور فوج ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ غالباً آئی ایس پی آر کے بیان کا یہ بھی مطلب ہے کہ اچھے کام توہم کررہے ہیں اور جو کوتاہیاں ہیں وہ سول حکومت کر رہی ہیں" ۔

عارف نظامی نے مزید کہا کہ نواز شریف اس بیان کو نطر انداز بھی کر سکتے تھے تاہم انہوں نے اپنے بیان کے ذریعے صورت حال کو واضح کرنا مناسب سمجھا۔

" ایک لحاظ سے نواز شریف اس بیان کو نظر انداز بھی کر سکتے تھے لیکن اپنے ترجمان کے ذریعے بیان دے کر انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ جو تمام ادارے ہیں ان کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیئے"۔

فوج کی طرف سے جاری اس بیان کے بعد بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی اس بارے میں بعض اراکین نے اپنی رائے کا اظہار کیا جب کہ اجلاس کے بعد بہت سے اراکین قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملات پر بیانات جاری کرنے کی بجائے، بند دروازوں کے پیچھے اگر براہ راست بات چیت ہو تو زیادہ بہتر ہے۔

XS
SM
MD
LG