رسائی کے لنکس

عدالت کی طرف سے یہ فیصلہ بدھ کو سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منیر اے ملک کے اس بیان پر دیا گیا کہ انتخابات سے متعلق عدالتی کردار پر عمران خان کا بیان نا ہی ’’تضحیک آمیز‘‘ ہے اور نا ہی عدالت کی ’’نا فرمانی‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

سپریم کورٹ نے بدھ کو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا، جس کے بعد سابق کرکٹر کے خلاف کسی بھی طرح کی عدالتی کارروائی کا امکان ختم ہو گیا ہے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی قیادت میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ کی طرف سے یہ فیصلہ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منیر اے ملک کے اس بیان کے بعد دیا گیا کہ انتخابات سے متعلق عدالتی کردار پر عمران خان کا بیان نا ہی ’’تضحیک آمیز‘‘ ہے اور نا ہی عدالت کی ’’نا فرمانی‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

’’وکلاء تحریک کے ذریعے موجودہ عدلیہ کی بحالی کے بعد کوئی بھی شخص عدالت کے خلاف اس قسم کے بیان کو سنجیدگی سے نہیں لیتا اور عدلیہ کا وقار اس سے مجروع نہیں ہوا۔‘‘

عدالت عظمیٰ نے گزشتہ ماہ تحریک انصاف کے سربراہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ وہ عدالت میں پیش ہو کر اس بات کو واضح کریں کہ انھوں نے عام انتخابات میں عدلیہ کی مبینہ ناقص کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے ’’سپریم کورٹ کے لیے شرمناک‘‘ کا لفظ کیوں استعمال کیا۔

بدھ کو سماعت کے بعد عمران خان نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ لفظ انتخابات کی نگرانی کرنے والے عدالتی افسران یعنی ریٹرننگ افسران کے کردار کے لیے استعمال کیا تھا، نا کہ سپریم کورٹ کے لیے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ملک میں آزاد عدلیہ پر یقین رکھتے اور اس کے حامی ہیں۔

سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ الیکشن ٹرائیبونلز انتخابات میں ان کے بقول بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی تحقیقات کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں اس لیے عدالت عظمیٰ اس سلسلے میں اقدامات کرے۔

’’سپریم کورٹ سے ہم انصاف نا مانگیں تو کس سے مانگیں۔ ہم چاہتے ہیں چار حلقوں پر تفصیلی تحقیقات کی جائیں جہاں اب تک الیکشن ٹربیونلز (تحقیقات) نہیں کر سکے۔ اگر ایسی تحقیقات نا ہوئیں تو اگلی مرتبہ مقابلہ مینڈیٹ کے لیے نہیں بلکہ یہ ہوگا کہ اچھی دھاندلی کون کرتا ہے۔‘‘

از خود نوٹسس اور توہین عدالت کے مقدمات میں مبینہ غیر معمولی اضافے پر حال ہی میں وکلاء کی جانب سے سپریم کورٹ پر نکتہ چینی کی گئی ہے اور ان کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل نے اس سلسلے میں ایک قرارداد بھی منظور کی۔

بار کونسل کے وائس چیئرمین قلب حسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہم نے انتخابات سے پہلے کہا تھا کہ عدلیہ کو سیاسی معاملات سے دور رہنا چاہیے۔ مگر ریٹرننگ افسران سے خطاب ہو رہا ہے، ہدایت دی جارہی ہے۔ توہین عدالت (کے قاتون) کا استعمال عدالت عظمیٰ کو کم سے کم کرنا چاہیے تاکہ اس کا خوف رہے۔ ورنہ ہر ایک توہین عدالت کرتا رہے گا۔‘‘

حکمران جماعت کے علاوہ تقریباً تمام جماعتوں نے 11 مئی کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزمات عائد کیے ہیں جبکہ عدالت عظمیٰ میں پی ٹی آئی کی جانب سے چند درخواستیں دائر کی گئی تھیں جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ چند حلقوں میں ریٹرننگ افسران کے تعاون سے دھاندلیوں کے ذریعے نتائج تبدیل کیے گئے۔

حکومت کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ان کی تحقیقات کروانے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی۔
XS
SM
MD
LG