رسائی کے لنکس

توہینِ عدالت: عمران خان کو مفصل جواب جمع کرانے کا حکم

  • یاسر علی منصوری

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے جمعہ کو ابتدائی سماعت کے بعد عدالتی کارروائی 28 اگست تک ملتوی کر دی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے توہینِ عدالت نوٹس سے متعلق جمعہ کو داخل کروائے گئے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اُنھیں مفصل جواب جمع کروانے کا حکم دیا۔

گیارہ مئی کے عام انتخابات میں عدلیہ کے کردار پر کڑی تنقید کی وجہ سے عمران خان کو جاری ہونے والے نوٹس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم عدالتِ عظمیٰ کا تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ نے اپنے مختصر اور وضاحتی جواب میں موقف اختیار کیا تھا کہ اُن کے حالیہ تنقیدی بیانات کا ہدف ریٹرنگ افسران کے طور پر تعینات کیے گئے ماتحت عدلیہ کے جج تھے۔

جواب کے مطابق ’’عمران خان سپریم کورٹ کا انتہائی احترام کرتے ہیں اور اُنھیں انتخابات سے متعلق پاکستان تحریکِ انصاف کی شکایات کے حل کے سلسلے میں اس عدالت سے بہت اُمیدیں وابستہ ہیں۔‘‘

عمران خان نے توہین عدالت سے متعلق نوٹس واپس لینے کی استدعا بھی کی، لیکن عدالت نے اُن کے مختصر جواب کو مسترد کرتے ہوئے اُنھیں مفصل جواب جمع کروانے کا حکم دیا۔

توہینِ عدالت نوٹس پر آئندہ سماعت 28 اگست کو ہو گی۔

سماعت کے بعد کمرہِ عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور اس کے خلاف کبھی توہین آمیز الفاظ کا استعمال نہیں کرسکتے۔

’’کوئی چیز میں نے ایسی نہیں کی جس کی مجھے سزا دی جائے۔ میں نے کوئی غلط بات نہیں کی۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ وہ دھاندلی سے متعلق ریٹرنگ افسران پر لگائے گئے الزامات پر قائم ہیں اور اس موقف کو ثابت کرنے کے لیے تحریکِ انصاف جلد دستاویزی مواد بھی سامنے لائے گی۔

عمران خان نے کہا کہ اُن کی جماعت ’’جمہوریت کی جنگ‘‘ لڑ رہی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ عوام کو پتا چلے کہ انتخابات میں کیا ہوا ہے۔

’’اس لیے ہم سپریم کورٹ سے اُمید لگا کر بیٹھے ہیں۔ اس سے یہ ہوگا کہ کم از کم اصلاح ہوگی، اقدامات لیے جائیں گے اور اگلے الیکشن صاف و شفاف ہوں گے، بس یہ کوشش ہے۔‘‘

تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں ہونے والی مبینہ دھاندلی سے متعلق الیکشن کمیشن اور عدالت عظمیٰ سے تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے، جس پر تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

جولائی کے اواخر میں حالیہ انتخابی عمل میں الیکشن کمیشن اور عدلیہ کے کردار سے متعلق عمران خان کی کڑی تنقید پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے رواں ہفتے اپنے ایک نوٹ میں کہا تھا کہ عدالتِ عظمیٰ کے حوالے سے یہ بیانات انتہائی توہین آمیز ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس نوٹ کی روشنی میں 31 جولائی کو جاری کیے گئے ’’آرڈر‘‘ میں کہا تھا کہ بادی النظر میں عمران خان نے دانستہ طور پر عدالت اور ججوں کو بدنام کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG