رسائی کے لنکس

عمران فاروق قتل کیس، تین ملزمان کی عدالت میں پیشی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایف آئی اے کے اہلکاروں نے سخت سیکورٹی میں ملزمان سید محسن علی، معظم علی خان اور خالد شمیم کو اسلام آباد کے جوڈیشیل میجسریٹ کی عدالت میں اتوار کو پیش کیا جہاں ان کی شناخت کرنے کے بعد عدالت نے انہیں ایک روزہ راہداری ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رہنما عمران فاروق کے قتل میں ملوث تین ملزمان کو ایک روزہ راہداری ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے "ایف آئی اے' کے حکام کے حوالے کر دیا۔

ایف آئی اے کے اہلکاروں نے سخت سکیورٹی میں ملزمان سید محسن علی، معظم علی خان اور خالد شمیم کو اسلام آباد کے جوڈیشل مجیسٹریٹ کی عدالت میں اتوار کو پیش کیا جہاں ان کی شناخت کرنے کے بعد عدالت نے انہیں ایک روزہ راہداری ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔

بتایا جاتا ہے کہ ایف آئی اے ان ملزمان کو پیر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے کے بعد ان سے تفتیش کرنے کے لیے ان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرے گی۔

"ایف آئی اے" کے شعبہ انسداد دہشت گردی نے گزشتہ روز عمران فارق کے قتل میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

ایف آئی آر میں الطاف حسین کے علاوہ محمد انور، خالد شمیم، افتخار حسین، کاشف خان کامران، معظم علی خان اور سید محسن علی کو نامزد کیا گیا ہے اور ان افراد پر عمران فاروق کے قتل کی سازش اور قاتلوں کو معاونت فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر عمران فاروق لندن میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے جہاں 16 ستمبر 2010ء کو انھیں ان کے گھر کے باہر قتل کر دیا گیا تھا۔

اتوار کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ اس معاملے کی تفتیش کے لیے ایک اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس کو کسی بھی طور پر سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیئے اور معاملے کو قانون کے مطابق ہی چلنے دیا جائے۔

قتل کی اس واردات کے بعد برطانیہ کی پولیس نے بھی تحقیقات شروع کی تھیں اور اس ضمن میں ایک ٹیم پاکستان میں حراست میں لیے گئے افراد سے پوچھ گچھ کے لیے اسلام آباد اور کراچی کا دورہ کر چکی ہے۔

رواں برس ہی ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث مرکزی ملزمان کو بلوچستان میں سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا جب کہ بعد ازاں کراچی سے معظم علی خان نامی شخص کو حراست میں لیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ اس نے دونوں مبینہ قاتلوں کو برطانیہ بھیجنے میں معاونت فراہم کی۔

حکام کا یہ دعویٰ ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے لیکن ایم کیو ایم اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے ان افراد سے لاتعلقی کا اظہار کر چکی ہے اور اس کے بقول یہ سب کچھ متحدہ قومی موومنٹ کی ساکھ کو خراب کرنے اور اسے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG