رسائی کے لنکس

عدل و انصاف کے نظام کی بالادستی ناگزیر ہے: عمران خان

  • یاسر علی

تحریک انصاف کے سربراہ نےمتنبہ کیاکہ اگر اعلیٰ عدلیہ کےفیصلوں پر عمل درآمد نا کیا گیا تو تحریک انصاف پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کے خلاف احتجاجی مہم شروع کرے گی

پاکستان تحریکِ انصاف کےسربراہ عمران خان نے کہا ہےکہ قومی ترقی کے لیےملک میں عدل و انصاف کے نظام کی بالادستی ناگزیر ہے۔

راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اتوار کی شب جلسہٴ عام سے خطاب کرتے ہوئے، اُنھوں نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا کے اُس اقدام کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرے گی، جس میں اُنھوں نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سزا کے باوجود اُن کی نااہلیت سے متعلق ریفرنس الیکشن کمیشن کو نا بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

عمران خان نے متنبہ کیا کہ اگر اعلیٰ عدلیہ کےفیصلوں پر عمل درآمد نا کیا گیا تو تحریک انصاف پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کے خلاف احتجاجی مہم شروع کرے گی۔

’’جب بھی آپ (وزیر اعظم گیلانی اور صدر آصف علی زرداری) نے اپنی بدعنوانی بچانے کے لیے سپریم کورٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کی، پاکستانی قوم اسلام آباد کی طرف نکلے گی اور میں یہ آج کہہ دیتا ہوں کہ نا آپ ہوں گے اور نا یوسف رضا گیلانی ہو گا۔‘‘

عمران خان نے کہا کہ اُن کی جماعت اقتدار میں آنے کے بعد امیر طبقے سے ٹیکس کی وصولی یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے گی جب کہ انتظامی معاملات کو درست کرکے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے راہ ہموار کی جائے گی۔

تحریک انصاف کے سربراہ کی تقریب کے دوران حسب ِروایت وقفے وقفے سے موسیقی بھی سنائی جاتی رہی۔

عمران خان نے صوبہٴ سندھ میں آئندہ ماہ کےاواخر سےتحریک انصاف کے عوامی جلسے شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ عوام ملک میں سیاسی تبدیلی چاہتی ہے، اور اُن کے بقول، آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کو کامیابی حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت اپنے پانچویں اور آخری سال میں قدم رکھ چکی ہے اور ان دنوں حزبِ اقتدار و اختلاف کی تمام جماعتوں کی توجہ آئندہ انتخابات پر مرکوز ہے جب کہ اپنی عوامی حمایت میں اضافے کے لیے اِن کے جلسے معمول بن چکے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) نے بھی مخلوط حکومت کے خلاف پارلیمان میں اور سڑکوں پر احتجاجی مہم شروع کر رکھی ہے جس میں پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی چار سالہ کارکردگی پر کڑی تنقید کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم گیلانی سے مستعفی ہونے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

لیکن اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کے خلاف مشترکہ مہم چلانے پر عدم اتفاق سے حکمران پیپلز پارٹی کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اُس کے رہنما اپنے اقتدار کو کوئی بڑا خطرہ محسوس نا کرتے ہوئے خود پر کی جانے والی تنقید کو بے بنیاد اور محض الزام تراشی قرار دیتے ہیں۔

وزیر اعظم گیلانی کا کہنا ہے کہ اُن کی جماعت اپنی کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کرے کی۔

ہفتہ کی شب ایک نجی ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ ایک (جمہوری) حکومت سے دوسری حکومت کو اقتدار کی منتقلی ہو گی اور میں یقین دلاتا ہوں کہ انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور شفاف ہوں گے۔‘‘

مبصرین کے خیال میں پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں پر یکے بعد دیگے الزامات کی وجہ سے ان کی کمزور ساکھ جب کہ اپوزیشن جماعتوں کے انفرادی ایجنڈوں کے باعث آئندہ انتخابات سے متعلق صورت حال خاصی مبہم ہے۔

XS
SM
MD
LG