رسائی کے لنکس

تحقیقات چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن سے کرائیں: عمران


عمران خان (فائل فوٹو)

عمران خان (فائل فوٹو)

عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں وزیراعظم کی طرف سے کسی سابق جج کی سربراہی میں کمیشن بنا کر معاملے کی تحقیقات کرانے کی پیشکش منظور نہیں اور نہ ہی وہ ایسے کسی کمیشن کو تسلیم کریں گے۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پاناما لیکس میں وزیراعظم کے خاندان کے غیر ملکی اثاثوں کے انکشافات کی تحقیقات سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن قائم کر کے کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو 24 اپریل تک کا وقت دیا ہے۔

انھوں نے اتوار کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ سے تمام نجی ٹی وی چینلز پر براہ راست تقریر کی جسے "قوم سے خطاب" قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو ایک بار پھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں وزیراعظم کی طرف سے ایک سابق جج کی سربراہی میں کمیشن بنا کر معاملے کی تحقیقات کروانے کی پیشکش منظور نہیں اور نہ ہی وہ ایسے کسی کمیشن کو تسلیم کریں گے۔

"میں سارے پاکستانیوں کو واضح کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ان (حکومت) سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدالتی کمیشن ہمیں نہیں چاہیے، ہم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نیچے ایک کمیشن چاہتے ہیں جس میں وائٹ کالر کرائمز کے ماہرین اور باہر سے آڈٹ فرم کو بلائیں۔ جب تک یہ نہیں کریں گے ہم آپ کا انتظار کریں گے۔۔۔ 24 اپریل کو تحریک انصاف کا یوم تاسیس ہے اسلام آباد میں، اس میں میں لائحہ عمل دوں گا۔"

عمران خان کے بقول وہ اپنا احتجاج وزیراعظم کی لاہور کے قریب واقع رہائش گاہ رائے ونڈ تک بھی لے جائیں گے۔

تحریک انصاف نے وفاقی سیکرٹری اطلاعات کو ایک خط کے ذریعے درخواست کی تھی کہ ان کے سربراہ اتوار کو سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کرنا چاہتے ہیں لہذا اس ضمن میں ضروری انتظامات کیے جائیں۔

تاہم وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب صرف صدر مملکت اور وزیراعظم ہی کر سکتے ہیں۔

اتوار کو پرویز رشید نے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان کو ان کے بقول دھرنے دے کر ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کی سازش کرنے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے اس سے قبل کہ وہ کسی اور دھرنے کی سازش تیار کریں۔

وزیراعظم کے بچوں کی آف شور کمپنیوں کا تذکرہ پاناما لیکس میں آنے کے بعد حزب مخالف حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتی آرہی ہے اور اس کی گونج ایوان میں بھی سنائی دے رہی ہے۔

سینیئر تجزیہ کار پروفیسر سجاد نصیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ "حزب مخالف اپنی (حکومت مخالف) مہم کو چلانے کی کوشش کرے گی اور اس پر بھی انحصار ہوگا کہ حکومت کس طرح سے ردعمل کا اظہار کرتی ہے، پھر جو پاکستان میں اداروں پر اعتماد کا بحران ہے وہ بھی اپنی جگہ قائم ہے تو اس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔"

ایک روز قبل ہی وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی کہا تھا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر ہیجانی صورتحال پیدا نہیں کی جانی چاہیے اور وہ اس معاملے کی تحقیقات وفاقی تفتیشی ادارے "ایف آئی اے سے بھی کروانے کو تیار ہیں۔

XS
SM
MD
LG