رسائی کے لنکس

دھاندلی سے پاک نیا پاکستان بنائیں گے: عمران


فائل

فائل

موجودہ حکومت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے، عمران خان نے کہا کہ،’ن لیگ کی حکومت کو ایک سال ہوگیا ہے۔ لیکن، کوئی ایک چیز بتائیں جو بہتر ہوئی ہو؟‘

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ، عمران خان نے کہا ہے کہ 2013ء کےعام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی چھان بین کا مطالبہ کرتے کرتے ایک برس بیت چکا ہے، لیکن،’ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی‘، جب کہ، بقول اُن کے، ’سارا پاکستان اِن انتخابات اور الیکشن کمیشن پر اعتماد کھو چکا ہے‘۔

اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ ایک’آزاد و غیرجانبدار‘ الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے۔

اتوار کے روز اسلام آباد کے ڈی چوک پر ایک جلسہٴعام سے خطاب کرتے ہوئے، اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ عام انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں، جنھوں نے، بقول اُن کے، ’عوام کا مینڈیٹ چوری کیا‘۔

عمران خان نے کہا کہ چار حلقون میں انگوٹھوں کے نشانات کی فوری تصدیق کی جائے۔ ’اِن ہی چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق ہوگئی، تو دودھ کا دودھ ،پانی کا پانی ہو جائے گا‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ہم صاف اور شفاف میچ کھیل کر ملک سے دھاندلی کو ختم کرکے نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں‘۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ جو لوگ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے نتیجے میں اسمبلیوں تک پہنچے ہیں، وہ بدعنوانی کو کس طرح ختم کریں گے۔ اُن کے الفاظ میں، دھاندلی کے خلاف ہم عدالتوں اور ٹریبونلز میں گئے اور ثبوت بھی دیے، لیکن ہمیں کہیں سے کوئی انصاف نہیں ملا‘۔

اُن کا مزیدکہنا تھا کہ ’بدعنوانی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے‘۔

موجودہ حکومت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے، عمران خان نے کہا کہ،’ن لیگ کی حکومت کو ایک سال ہوگیا ہے۔ لیکن، کوئی ایک چیز بتائیں جو بہتر ہوئی ہو؟‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں جب تک سرمایہ کاری نہیں ہوگی، اُس وقت تک بے روز گاری ختم نہیں ہوسکتی۔

بقول اُن کے، لندن میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری، شریف برادران کی ہے۔۔۔ اگر سوئس بینکوں میں پڑا پاکستان کا 200 ارب ڈالر واپس آجائے تو پاکستان کو اگلے 10 برس تک ٹیکس دینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ لیکن، باہر سے پیسہ وہی لے کر آئے گا، جس کا کاروبار پاکستان میں ہو‘۔

انہوں نے کہا کہ، ’شہباز شریف انتخابات سے قبل علی بابا 40 چور کا نعرہ لگاتے تھے، اور کہتے تھے کہ سوئس بینکوں سے پاکستانی عوام کا پیسہ واپس لائیں گے۔ لیکن، ایک سال گزر گیا پیسہ واپس نہیں آیا‘۔

احتجاجی دھرنے سے خطاب کے دوران عمران خان نے نجی ٹی وی چینل’جیو نیوز‘ اور’جنگ گروپ‘ کا ذکر کیا، اور الزام لگایا کہ الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی میں، پاکستان کا ایک میڈیا ہاؤس بھی ملوث ہے۔ بقول اُن کے،’جیو چینل مشرقی بارڈر پر امن اور مغربی بارڈر پر جنگ کی آشا چلاتا رہا اور جب میں نے امن کی بات کی تو مجھے طالبان خان بنا دیا گیا‘۔

تحریک انصاف کے چیرمین نے اعلان کیا کہ سونامی اب فیصل آباد کا رخ کررہی ہے۔ 23مئی کو فیصل آباد میں دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا جائے گا، اور جب تک انصاف نہ ملا، ہر جمعے کے روز الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کیا جائےگا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے، پارٹی کے نائب سربراہ، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ، ’حکومت کا مستقبل خطرے میں ہے؛ ملک کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل کرنا ہو گا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’آج الیکشن دھاندلی کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہوگیا ہے‘۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لاقانونیت بے انتہا بڑھ چکی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ، ’ہمیں اگلی نسل کی بہتری کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینئر سیاستداں، جاوید ہاشمی نے جلسے کے خطاب میں کہا کہ ’قرضہ مانگنے والوں نے ملک کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ آج مزدور اور غریب طبقہ پس رہا ہے۔ لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ ایک سال میں غربت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے‘۔

پی ٹی آئی کے احتجاجی دھرنے سے سیاسی پارٹی، عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید نے بھی خطاب کیا۔ بقول اُن کے، ’عمران خان حکم دیں۔ دس منٹ میں جعلی جمہوریت ختم ہو جائے گی‘۔

شیخ رشید نے الزام لگایا کہ ملک میں ہر طرف لوٹ مار جاری ہے؛ اور یہ کہ، پاکستان کی جمہوریت پر کچھ خاندان قابض ہیں۔
XS
SM
MD
LG