رسائی کے لنکس

تحریک انصاف کا کراچی شو اور انٹرنیشنل میڈیا


تحریک انصاف کا کراچی شو اور انٹرنیشنل میڈیا

تحریک انصاف کا کراچی شو اور انٹرنیشنل میڈیا

30 اکتوبر کو مینارپاکستان لاہور میں ایک بڑے جلسے نے بقول سیاسی مبصرین کے پہلی بار پاکستان تحریک انصاف کوبطور ایک سیاسی جماعت کے اور سابق کرکٹر عمران خان کو ایک مقبول ہوتے ہوئے سیاسی قائد کے طور پراپنی پہنچان دی تھی۔ عمران خان کے بعض سیاسی مخالفین نے بھی اقرار کیا تھا کہ وہ انہیں پہلی بار سنجیدگی سےلینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اسی طرح بعض مبصرین کے بقول یہ سیاسی جلسہ پاکستان کی سیاست میں ’’گیم چینجر‘‘ تھا۔ تقریبا دو ماہ کے وقفے کے بعد تحریک انصاف نے 25 دسمبر کو کراچی میں مزارقائد پر باغ جناح میں شرکاء کی تعداد کے اعتبار سے غالبا لاہور سے بھی بڑا جلسہ منعقد کیا ہے جو مبصرین کے مطابق ملکی سیاست پر دور رس اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دیکھا گیا تھا کہ لاہور میں کامیاب جلسے کے بعد اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم پرنظر آنے والی واحد نمایاں شخصیت عمران خان کو درجنوں تجربہ کار سیاسی راہنماؤں کا ساتھ حاصل ہوا۔ سابق وزراء خارجہ شاہ محمود قریشی اور خورشید محمود قصوری کے بعد عمران کے قافلے میں شامل ہونے والی تازہ ترین شخصیت مسلم لیگ نواز کے سینیئرراہنما مخدوم جاوید ہاشمی کی ہے۔ ان راہنماؤں کے عللاوہ درجنوں ایسے نام تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں جو قومی یا صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں یا رہ چکے ہیں۔

مبصرین اس خدشے کا اظہار کرتے چلے آ رہے تھے کہ اگر کراچی میں جہاں ، متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ حالیہ برسوںمیں کوئی بھی سیاسی جماعت کوئی بڑا شو کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے، عمران خان بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اس سے ان کے نئی ابھرتی سیاسی طاقت کے طور پر قائم ہوتے تشخص کو سخت دھچکہ لگے گا۔ مگر ملکی ذرائع ابلاغ کراچی میں تحریک انصاف کے جلسے کو ملکی تاریخ کے چند بڑے جلسوں میں شمار کر رہے ہیں۔ مبصرین کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ ملکی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھنے والے شہر کراچی میں کامیاب جلسہ مزید کن سرکردہ شخصیات کو تحریک انصاف میں شمولیت پر مجبور کرتا ہے۔ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے موجودہ رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیرخارجہ سردار آصف احمد علی پہلے ہی پی ٹی آئی میں شامل ہونے کے عمران خان کے اعلان کی تصدیق کر چکے ہیں۔

پاکستان ذرائع ابلاغ کراچی میں تحریک اجلاس کے اس جلسے میں شرکاء کی تعداد اور اس کے سیاسی اثرات پرتبصرے تجزیے اور رپورٹیں مرتب کر رہے ہیں، غیر ملکی میڈیا عمران خان کے کراچی کے جلسے کو کیسے دیکھتا ہے اس کا تفصیل کچھ یوں ہے۔

اخبار ٹیلی گراف نے عمران خان کے اس نعرے کو سرخی بنایا ہے ’’ میں نے مخالفین کو چِت کر دیا ۔۔ اب میرا دورآ گیا ہے‘‘ اخبار کے مطابق آئندہ عام انتخابات سے قبل جو وسیع تر حلقوں کے خیال میں آئندہ سال متوقع ہیں،عوامی حمایت کی سونامی پر سوار عمران خان خود کو سیاسی مہم کے اوچھے حربوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد کا عمران خان کا تبدیلی کا پیغام سننے آنا غیر معمولی بات اس لیے بھی ہے کہ یہ شہر خان کے مضبوط گڑھ لاہور کے میلوں فاصلے پر ہے۔ اخبار 23 دسمبر کو یوگو۔کیمبرج کے عوامی جائزہ رپورٹ کا بھی حوالہ دیتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جن افراد سے رائے لی گئی ان میں سے 81 فیصد عمران خان کو ملکی قیادت کے لیے سب سے موزوں خیال کرتے ہیں۔

اخبار دی گارڈین کراچی کے جلسے اور مخدوم جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی جیسے سینیئر راہنماؤں کی تحریک انصاف میں شمولیت اور کراچی کے جلسے کوعمران خان لے لیے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے باور کراتا ہے کہ عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتی ہےکیونکہ عمران خان ڈرون حملوں اور امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعاون پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں تاہم اخبار لکھتا ہے کہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا عمران خان سال 2013ءکے انتخابات میں کوئی قابل ذکر کامیانی حاصل کر پائیں گے۔

بی بی سی انگلش کے مطابق عمران خان دسیوں ہزاروں افراد کو جمع کرنے میں کامیاب رہے۔ ادارے کے مطابق عمران خان خاص طور پر شہری علاقوں کے متوسط طبقے کی ’غیرمبہم‘ سوچ پر سواری کیے ہوئے ہیں۔ لیکن شہری علاقوں میں ایسے بہت سوں کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود عمران خان کو آگے چل کر اپنے نظریات کے وضاحت کرنا ہوگی اور یہ بھی ثابت کرنا ہو گا کہ آیا ان میں ملک چلانے کی صلاحیت بھی ہے کہ نہیں۔ بی بی سی کے مطابق، ملک دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی جڑیں اب بھی عوام میں مضبوط ہیں۔

اخبار خلیج ٹائمز کے مطابق دوسری بار ایک لاکھ سے زائد لوگوں کا جلسہ ثابت کرتا ہے کہ عمران خان ابھی بھی ایسی طاقت ہیں جس نے ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی نقشے پر اپنی موجودگی کا احساس دلانا ہے۔

اخبار ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ لکھتا ہے کہ ہزاروں لوگ عمران کے سونامی کے لیے اکھٹے ہو گئے۔ اور کراچی شہر کے باسی تبدیلی کے عمران کے نعرے کا بھرپور جواب دے رہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان میں عمران خان کے سیاسی مخالفین اور بعض نقاد جلسے کو تو کامیاب قرار دے رہے ہیں مگر ان کا کہناہے کہ عمران خان تبدیلی کا نعرہ تو لگاتے ہیں مگر ان کے پاس تبدیلی کا واضح ایجنڈا اور روڈ میپ ابھی تک موجود نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG