رسائی کے لنکس

تحریک انصاف کی خوش بختی کا سال


تحریک انصاف کی خوش بختی کا سال

تحریک انصاف کی خوش بختی کا سال

گزشتہ دو ماہ میں ”بگ شوز“ کے انعقاد سے تحریک انصاف نے ملکی سیاست میں ایسی ہلچل مچائی ہے کہ تین سابق وزرائے خارجہ سمیت متعدد ’ہیوی ویٹس ‘بھی اس کے سونامی سے نہ بچ پائے ۔ ایک کے بعد ایک تحریک کے ارکان کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔اگر روز بروز بڑھتی ہوئی تعداداور خاص کرتحریک کی گزشتہ دوماہ کی کامیابیوں پر غور کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ عمران خان ” پاکستانی سیاست کے پلیئر آف دی ائیر “ بن گئے ہیں۔

عمران خان نے تحریک انصاف کی بنیاد 15سال پہلے ڈالی تھی لیکن یہ پندرہ سال ایک طرف اور گزشتہ دو ماہ ایک جانب ہوگئے ہیں۔ تحریک نے ان دومہینوں میں جتنی کامیابیاں حاصل کی ہیں اتنی 15سال میں کبھی حاصل نہیں ہوئیں ۔ آیئے دو ماہ کی کامیابیوں پر ایک سرسری سی نظر دوڑائی جائے:۔

30 اکتوبر سے 27 دسمبر تک
عمران خان کی گزشتہ پندرہ سال سے جاری سیاسی جدوجہد رنگ لائی اور ان کی عملی کامیابیوں کا باقاعدہ آغاز 30 اکتوبر کو مینار پاکستان سے سے ہوا جس کے بعد ہر گزرتے روز کپتان کے قافلے میں اضافہ ہوتا گیا جس میں نہ صرف سیاستدان بلکہ شوبز اور کھیل کی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہوتے گئے ۔

گیارہ نومبر کو سابق ڈی جی انٹیلی جنس اور پیپلزپارٹی کی قیادت سے اختلافات پر مستعفی ہونے والے مسعود شریف خٹک نے تحریک انصاف میں شامل ہو کر سب کو چونکا دیا ۔

17 نومبر کو اسکوائش کے سابق عالمی چیمپین قمرالزمان خان بھی تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تاہم حکمران جماعت پیپلزپارٹی کوعمران کے سونامی سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب 28 نومبر کو پیپلزپارٹی کے اہم رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی کپتان کی ٹیم میں شامل ہو گئے ۔

ابھی تجزیہ کار مذکورہ شخصیات کے فیصلوں پر بحث و مباحثوں میں ہی پڑی تھے کہ دسمبر شروع ہو گیا اور اس ماہ کی پہلی خوشی عمران خان کو اس وقت ملی جب تحریک استقلال کے سربراہ ائیر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان نے عمران کی حمایت کا اعلان کیا۔ 16 دسمبر کو عوامی نیشنل پارٹی کے راہنما اور ممبر قومی اسمبلی خواجہ محمد خان ہوتی ،نوابزادہ نصر اللہ خان طورواور وحید اللہ طورو بھی عمران کے ہمراہ ہو گئے ۔

تحریک انصاف کے سونامی نے مسلم لیگ ق کو 18 دسمبر کو ہٹ کیا جس میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قصوری سمیت ، اویس لغاری ، غلام سرور ، سکندر بوسن ، اسحاق خان خاکوانی ، سعید عباسی اور دیگررہنماؤں سمیت مسلم لیگ فنکشنل کے جہانگیر ترین بھی تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ۔

20 دسمبر کو معروف پاپ گلو کار ابرار الحق نے بھی تحریک انصاف کے سائے تلے سیاسی میدان میں قدم رکھ دیا ۔

اس تمام تر تناظر میں مسلم لیگ ن جوکافی حد تک کم متاثر نظر آ رہی تھی لیکن 24 دسمبر کو اس کے سینیئر نائب صدر جاوید ہاشمی نے بھی تحریک انصاف سے اپنا مستقبل وابستہ کر لیا جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ن لیگ تاحال سکتے میں ہے ۔

اگلے ہی روز یعنی25 دسمبر کے جلسے میں پیپلزپارٹی کے اہم راہنما اور سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی بھی کپتان کی پناہ میں آ گئے ۔

26 دسمبر کو مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی شاہد محمود بھی تحریک انصاف میں آ گئے ۔
اس سے قبل اسی سال دس جنوری کو جسٹس(ر) وجیہیہ الدین احمد ، 22 جنوری کو سابق گورنر پنجاب ، پانچ اکتوبر کو مسلم لیگ ق کے بانی میاں محمد اظہر،یکم نومبرکو معروف ڈرامہ نویس حسینہ معین ، 9 نومبر کو علامہ اقبال کے پوتے ولیداقبال نے اپنا مستقبل عمران خان کے نام کر دیا ۔
سال 2011 کے ختم ہونے میں ابھی چاردن باقی ہیں اورشمولیت کی اس رفتار کے پیش نظر یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید شخصیات اس سونامی کا حصہ بن سکتی ہیں ۔

XS
SM
MD
LG