رسائی کے لنکس

امریکی صدارتی انتخابات، ستمبر میں قبل از ووٹنگ کا آغاز


فائل

فائل

ملک کی 50 ریاستوں میں سے دو تہائی سے زیادہ میں 8 نومبر کے انتخاب میں قبل از وقت ووٹنگ کی اجازت ہوتی ہے، اور سبھی میں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی اجازت ہے، اُس صورت میں کہ پولنگ کے دِن رائے دہی میں شمولیت میں کوئی امر مانع ہو

امریکہ میں انتخابات کا دِن ابھی دو ماہ دور ہے۔ تاہم، یہ ایک ایسا عمل ہے، جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ کچھ ریاستوں کے ووٹر اگلے ماہ سے ہی رائے دہی کا آغاز کریں گے، جب کہ ابھی دونوں کلیدی امیدوار پہلے مباحثے میں بھی شریک نہیں ہوئے ہوں گے۔

ملک کی 50 ریاستوں میں سے دو تہائی سے زیادہ میں 8 نومبر کے انتخاب میں قبل از وقت ووٹنگ کی اجازت ہوتی ہے، اور سبھی میں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی اجازت ہے، اُس صورت میں کہ پولنگ کے دِن رائے دہی میں شمولیت میں کوئی امر مانع ہو۔

زیادہ تر ریاستوں میں قبل از وقت پولنگ کا عمل انتخابات سے دو یا تین ہفتے پہلے شروع ہوتا ہے، جب کہ کچھ ریاستیں 23 ستمبر کو ہی اِس عمل کا آغاز کر دیتی ہیں، جس کے تین روز بعد ڈیموکریٹک امیدوار اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور ری پبلیکن امیدوار اور جائیداد کے نامور کاروباری شخص ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان پہلا مباحثہ ہوگا۔

صدارتی انتخابی مہم کے حتمی دو ماہ کے دوران بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ اشتہار بازی کے ذریعے ووٹروں کو مرعوب کرنے کی بڑی سطح کی سعی کی جاتی ہے، جب کہ ووٹروں کو موقع ملتا ہے کہ وہ امیدواروں کی جانب سے مباحثوں کو دیکھ سکیں، جب کہ نائب صدارت کے امیدوار بھی مباحثے میں شرکت کرتے ہیں۔

پیر کے روز ٹرمپ اور کلنٹن، دونوں ’لیبر ڈے‘ کی ریلیوں میں شرکت کریں گے، جو امریکی کارکنان کی یاد میں امریکہ کا قومی یومِ تعطیل ہوتا ہے۔ دونوں امیدوار کلیولینڈ میں محنت کشوں سے ملاقات کرتے والے ہیں؛ جو اوہائیو کی وسط مغربی فیصلہ کُن ریاست کا سب سے بڑا شہر ہے۔

بعدازاں، ری پبلیکن امیدوار اوہائیو کے شہر ینگزٹاؤن میں منعقدہ ایک کمیونٹی میلے میں انتخابی مہم سے خطاب کریں گے؛ جب کہ کلنٹن وسط مغربی ریاست، الی نوائے کے شہر، ہیمپٹن میں ’لیبر ڈے‘ تقریب سے خطاب کریں گی؛ جہاں کلنٹن کو ٹرمپ پر کافی سبقت حاصل ہے۔

ہیمپٹن، مسی سیپی نہر کی دوسری پار واقع ایک گاؤں ہے، جو کانٹے کے مقابلے والی ریاست، آئیوا کے قریب ہے۔

کلنٹن اور ٹرمپ کے درمیان جاری دوڑ کا خاکہ پچھلے برس سامنے آیا جب کلنٹن نے چار سے چھ ہفتوں تک اپنی سبقت برقرار رکھی ایسے وقت جب ٹرمپ نے ریلی نکالی جس کے بعد رائے عامہ کے جائزوں میں دونوں امیدواروں کی مقبولیت تقریباً برابر ہوئی۔

حالیہ دِنوں کے دوران، ٹرمپ کی مقبولیت میں قدرے اضافہ سامنے آیا؛ جب کہ اگست کے اوائل میں، کلنٹن کو سبقت حاصل رہی، ایسے میں جب جولائی کے آخر میں ڈیموکریٹک نیشنل کنوینشن منعقد ہوا، جہاں کلنٹن کے علاوہ دیگر شرکا نے چار رات لگاتار ٹرمپ کے خلاف تقاریر کیں۔

XS
SM
MD
LG