رسائی کے لنکس

کشمیر میں ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی پر حکام کی پریشانی

  • روشن مغل

قانون ساز اسمبلی کے رکن عبدالوحید نے کہا کہ مقامی کوٹے کے تحت تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طالب علموں سے یہ ضمانت لینے کی تجویز زیرِ غور ہے کہ ڈگری ملنے کے بعد وہ کم از کم 10 سال نیلم میں خدمات سر انجام دیں گے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عارضی سرحد لائن آف کنٹرول کے قریب بسنے والوں کے لیے اسپتال تو موجود ہیں لیکن یہاں طبی ماہرین کی عدم دستیابی مقامی آبادی کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

2005ء کے تباہ کن زلزلے سے پاکستانی کشمیر کے بیشتر علاقے بری طرح متاثر ہوئے تھے، جہاں درسگاہوں کے علاوہ مراکز صحت کی ایک بڑی تعداد مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی۔

لیکن بین الاقوامی امداد سے یہاں جدید اسپتال تو قائم کر دیے گئے ہیں لیکن علاج معالجے کے لیے یہاں ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے۔

سرحدی ضلع نیلم سے رکنِ قانون ساز اسمبلی میاں عبدالوحید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس صورت حال کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تقریباً دو لاکھ آبادی والے اس علاقے کے سرکاری اسپتال میں ماہر امراضِ نسواں کی خاتون ڈاکٹر کی ایک اسامی ہے اور وہ بھی خالی ہے۔

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)


ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سرکاری خرچ پر علاقے کے کوٹے سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا فارغ التحصیل ہونے کے بعد ان علاقوں کی بجائے پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں میں کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جسے انھوں نے پاکستانی کشمیر کے علاقوں کے لیے ایک ’’بد قسمتی‘‘ سے تعبیر کیا۔

’’ہم نے سوچا ہے کہ ایسے بچے بچیاں جو نیلم کے کوٹے سے میڈیکل کالجوں میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ان سے ہم یہ ضمانت لیں گے (اشورٹی بانڈ پر دستخط کروائیں گے) کہ ڈگری ملنے کے بعد وہ کم از کم 10 سال نیلم میں خدمات سر انجام دیں گے۔‘‘

میاں عبدالوحید کا کہنا تھا کہ اگر طبی ماہرین یہاں آکر کام کرنا چاہیں تو حکومت انھیں کنٹریکٹ پر ملازمت دینے کو تیار ہے۔

ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی دیگر مریضوں کے علاوہ وادی نیلم اور دیگر قریبی علاقوں کی حاملہ خواتین کے لیے تکلیف دہ حد تک پریشانی کا سبب ہے کیونکہ ان خواتین کو تقریباً 80 کلومیٹر کا سفر طے کرکے دارالحکومت مظفر آباد کے اسپتال آنا پڑتا ہے۔

کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی عارضی حد بندی لائن پر حالیہ مہینوں میں فائرنگ کے واقعات کے باعث بھی مقامی آبادی پریشانی کا شکار رہی۔
XS
SM
MD
LG