رسائی کے لنکس

سندھ: خواتین سے متعلق جرائم میں اضافہ، روزانہ 5 خواتین قتل


فائل

فائل

اعداد کے مطابق، خواتین کبھی غیرت کے نام پر، پسند کی شادی، زمین کا تنازعہ، ’کاروکاری‘، خاندانی روایتی جرگے کے فیصلے کی بنا پر یا گھریلو رنجشں یا پھر جنسی و جسمانی تشدد کے باعث ہلاک کردی جاتی ہیں

کراچی: حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، صوبہٴسندھ میں مختلف وجوہ کی بنا پر روزانہ 5 سے 6 خواتین کے قتل کے واقعات سامنے آتے ہیں۔

اعداد کے مطابق، خواتین کبھی غیرت کے نام پر، پسند کی شادی، زمین کا تنازعہ، ’کاروکاری‘، خاندانی روایتی جرگے کے فیصلے کی بنا پر یا گھریلو رنجشں یا پھر جنسی و جسمانی تشدد کے باعث ہلاک کردی جاتی ہیں۔

جرائم میں ’اس تشویشناک اضافے پر‘، مختلف حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سندھ میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنےوالی غیر سرکاری تنظیم، ’وومن ایکشن فورم‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، ایک سال کے دوران 2185 خواتین قتل کی جا چکی ہیں۔

خواتین کے قتل کے واقعات میں اضافے پر ’وومن ایکشن فورم‘ کی سربراہ، امر سندھو نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں بتایا کہ ’اتنی بڑی تعداد میں خواتین کا قتل جنگی محاذ پر بھی نہیں ہوتا‘۔

امر سندھو کا مزید کہنا تھا کہ ’وومن ایکشن فورم کی جانب سے خواتین کے قتل پر آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ ہم نے مختلف تنظیموں کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار پیش کئے ہیں، جن میں ایک سال میں 2185 خواتین کے قتل کا شمار سامنے آیا ہے۔‘

بقول ان کے، ’سالانہ سطح پر اگر ان اعداد و شمار کا حساب لگایا جائے تو ہر روز قتل ہونےوالی خواتین کی تعداد 5 سے 6 بنتی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر 5 خواتین کا قتل ایک لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔‘

لیکن، بقول اُن کے، ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ موجودہ حکومت صرف اپنے اقتدار بچانے میں مگن ہے۔ عام سطح پر ہونے والے جرائم اور خواتین کی صورتحال کی کسی کو فکر نہیں‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’افسوسناک المیہ یہ ہے کہ اس ضمن میں قاتل کوئی اور نہیں بلکہ خود اپنے خون کے رشتے ہیں؛ جب کہ قتل کو مختلف نام دیا جاتا ہے‘۔

دوسری جانب، اُنھوں نے کہا کہ اگر قاتل کی نشاندہی ہو بھی جائے تو مبینہ طور پر ’پیسے کے زور پر، قانون کی گرفت نہیں ہوپاتی؛ جب کہ مقتول کے لواحقین کا ساتھ دینے کے بجائے پولیس اور انصاف فراہم کرنےوالے ادارے ظالم کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’جنسی زیادتی کے کیسز کی تعداد اور تشدد کے بعد قتل اور لاشیں پھینک دینے کے واقعات ایک عام سی بات بنتی جا رہی ہے، جس کے لئے سوائے سول سوسائٹی اور خواتین کی تنظیموں کے، ظلم کی شکار عورتوں کے لیے آواز اٹھانےوالا کوئی نہیں۔ ادھر، اکثر اوقات، قانون نافذ کرنےوالے ادارے اپنی مرضی سے کیس بناتے ہیں‘۔

صرف قوانین بنانے اور اسمبلیوں میں بل پاس کرنا کافی نہیں

وومن ایکشن فورم کی سربراہ نے مزید کہا ہے کہ قانون منظور ہو جاتے ہیں، جب کہ اسمبلیوں میں صرف قوانین کا پاس ہونا ان مسائل کا حل نہیں۔

بقول اُن کے، ’اندرون سندھ میں قتل ہونےوالی خواتین کے اہلخانہ کو تو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ پولیس کی رپورٹ کہاں، کیسے کروانی ہے۔ ایسے قوانین کا ان کو کوئی علم نہیں، کوئی آگاہی نہیں۔ عام سطح پر ایسے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے اعلیٰ حکمرانوں سمیت ہر طبقے کو آگے آنا ہوگا۔ صحافی مصنف، سماجی کارکن اور عوام مل کر آواز اٹھائیں تو ہی کچھ ہو سکے گا‘۔

حقوق نسواں تنظیموں کا خواتین کے اسپیشل کورٹس بنانے کا مطالبہ

امر سندھو نے کہا کہ اُن کی تنظیم کا ’اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ خواتین کے قتل کے کیسز میں پیچیدگیاں اور کئی مسائل کا سامنا ہے۔ جب تک فوری کارروائی کے مقدمات یا اسپیشل کورٹ میں کیسز نہیں چلیں گے تو انصاف کبھی نہیں ملےگا۔‘

اُنھوں نے سوال کیا کہ جب دہشتگردی کے لئے خصوصی کورٹس بن سکتے ہیں تو 'خواتین کے قتل' کو روکنے کیلئے خواتین کی اسپیشل کورٹس کیوں نہیں بنائی جاتیں؟‘۔

XS
SM
MD
LG