رسائی کے لنکس

داعش کے نظریات کا آسان شکار نئی نسل کیوں؟


وی او اے اردو کے پروگرام ’انڈی پنڈنس ایونیو‘ میں جبران ناصر، عائشہ اعجاز خان، ڈاکٹر ریحانہ لطیف اور اختر عالم کی گفتگو

پاکستان ہو یا امریکہ اور برطانیہ، انتہاپسند نظریات میں نوجوانوں کے لئے کشش کی وجہ کیا ہے؟ والدین اپنے بچوں کو داعش کے انتہا پسند نظریات کا شکار بننے سے کیسے روک سکتے ہیں؟

اس موضوع پر ’وائس آف امریکہ اردو‘ کے پروگرام ’انڈی پنڈنس ایونیو‘ میں بات کرتے ہوئے انتہا پسندی کے خلاف ٹویٹر پر #OwnOurMosques نام کی مہم چلانے والے پاکستانی اینکر جبران ناصر کا کہنا تھا کہ مغرب میں تین بچیاں گھروں سے نکل کر جہاد پر چلی گئیں اور ہر طرف شور ہے، پاکستان میں کئی سالوں سے نوجوان مذہب کی انتہا پسند تعریف سے گمراہ ہو کر نام نہاد جہاد کے راستے پر نکل رہے ہیں، لال مسجد کی طالبات میڈیا کو داعش سے یکجہتی کے اظہار کی وڈیو بھیج رہی ہیں اور انتظامیہ کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا عام ہونے کے بعد سے نفرت اور انتہا پسندی پر اکسانے والے مواد کا پھیلاؤ کس قدر عام ہو چکا ہے، سب جانتے ہیں۔ لیکن، حکومت کا محکمہٴاطلاعات ایسے فیس بک، ٹویٹر صفحات کو بین کروانے کی کوئی غیر معمولی کوشش نہیں کرتا۔

جبران ناصر کے بقول، برطانیہ، امریکہ اور مغربی دنیا میں حکومتیں اور سیکیورٹی ادارے کم از کم اتنا نوٹس تو لے رہے ہیں کہ اب جب کم عمر بچیوں کے جہاد پر جانے کی خبر عام ہوئی ہے تو اس رجحان کے مقابلے کے لئے کچھ سرگرمی ضرور دکھائی جائے گی۔ پاکستان میں ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے جو زیادہ تشویش کی بات ہے۔

لندن سے قانون دان اور انسانی حقوق کی کارکن عائشہ اعجاز خان کا کہنا تھا کہ 16 سال کی تین بچیوں کا اپنے گھروں کے آرام دہ ماحول کو چھوڑ کر جہاد کرنے شام چلے جانا، پاکستان میں بیٹھ کر شائد اتنا بڑا مسئلہ نہ لگتا ہو، لیکن برطانیہ اور مغربی معاشروں میں رہنے والی مسلمان کمیونٹی کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ معاشروں میں تارک وطن کمیونٹی کی مساجد اور کمیونٹی سینٹرز کا ماحول اس سانچے میں ڈھالنے کی ضرورت ہے، جس میں نوجوان مسجد میں قدم رکھتے ہوئے اپنے آپ کو اجنبی محسوس نہ کریں۔ انہیں مسجد اور کمیونٹی سینٹر میں ایسا خیر مقدمی ماحول ملے کہ وہ مغربی انداز اپنا کر بھی اپنے آپ کو مسلمان کہلوا سکیں، مسلمان سمجھے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنے ملکوں کو چھوڑ کر یورپ آکر آباد ہونے والی پہلی نسل کے لوگ کہیں نہ کہیں اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کی وجہ سے اس بے سمتی کا شکار نہیں ہوئے، جس کا سامنا یورپی ملکوں میں تارکین وطن کی دوسری نسل کو ہے۔

عائشہ اعجاز خان کے بقول، ان کے پاس، اپنی ایک ہی شناخت ہے، ان کا مسلمان ہونا اور اپنے آپ کو دوسری اقوام سے برتر سمجھنا۔۔۔عرب اور جنوبی ایشیائی ملکوں سے ترک وطن کر کے آنے والوں کو کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی ثقافت، اپنی تہذیب اور اپنی موسیقی کے ان رنگوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کریں، جس سے ان کے بچوں کو معلوم ہو کہ اسلام میں ہر چیز سے منع ہی نہیں کیا جاتا، اس میں ہر خوبصورتی کی گنجائش موجود ہے۔

اختر عالم کا، جو واشنگٹن میٹرو پولیٹین ایریا کی سب سے بڑی مسجد ایڈمز یا آل ڈیلس ایریا مسلم سوسائٹی کے گورننگ بورڈ کے رکن ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ، برطانیہ اور مغربی معاشروں میں، جہاں ماں اور باپ دونوں کام کرتے ہیں، بچوں کو دینے کے لئے کسی کے پاس وقت نہیں۔ ایڈمز اور دیگر امریکی مساجد میں اب اس ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے کہ نوجوانوں کو انتہا پسند رجحانات سے بچانے کے طریقوں پر زیادہ جارحانہ انداز سے سوچنے کی ضرورت ہے۔۔ مساجد میں ایسے گروپس کی آمد و رفت پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں جو مسجد کی حدود سے باہر گفتگو کے حلقے منعقد کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور کوشش کی جا رہی ہے کہ مساجد اپنی حدود میں ہونے والی ہر سرگرمی پر نظر رکھیں تاکہ انتہا پسند نظریات کو پھیلنے کے لئے مساجد کے کردار پر سوال نہ اٹھائے جائیں۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے شام جانے والوں کی تعداد، جو ایک سے ڈیڑھ سو کے درمیان ہے، اتنی زیادہ نہیں کہ ہنگامی اقدامات ضروری ہوں۔

ماہر نفسیات ریحانہ لطیف کا کہنا تھا کہ دوسرے ملکوں سے امریکہ آکر آباد ہونے والوں کو اپنے بچوں کو تحمل مزاجی اور گنجائش کا سبق پڑھانے کی ضرورت ہے۔

بقول اُن کے، ’اپنے دماغ کو تنگ نظری میں دھکیلنے کے بجائے اپنے بچوں کو مغربی معاشروں میں مل جل کر رہنے کا سبق پڑھائیں۔ تب ہی تارکین وطن کی اولاد اپنے موجودہ معاشروں کے لئے اور اس ملک کے لئے نیک نامی کا باعث بنے گی، جہاں سے ان کے والدین نقل وطن کر کے یورپی ملکوں میں آباد ہوئے ہیں۔‘

XS
SM
MD
LG