رسائی کے لنکس

پاکستان میں اقلیتوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات پر زور


پروگرام کے میزبان محمد عاطف سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ میں مقیم مسلم دانش ور نعمان علی خان کا کہنا تھا کہ اسلام اقلیتوں کے حقوق پر بہت زور دیتا ہے اور ان کی حفاظت اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

وائس آف امریکہ اردو کے پروگرام انڈی پینڈنس ایونیو میں گفتگو کرتے ہوئے شرکا نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو امریکی محکمۂ خارجہ کی رپورٹ کی روشنی میں اقلیتوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے گزشتہ ہفتے دنیا میں مذہبی آزادیوں سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی تھی جس میں پاکستان کا شمار ان ملکوں میں کیا گیا ہے جہاں اقلیتوں کو اکثریت کے ہاتھوں مسائل اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین موجود ہیں جب کہ انفرادی سطح پر بھی اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویے میں اضافہ ہورہا ہے۔

پروگرام کے میزبان محمد عاطف سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ میں مقیم مسلم دانش ور نعمان علی خان کا کہنا تھا کہ اسلام اقلیتوں کے حقوق پر بہت زور دیتا ہے اور ان کی حفاظت اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

نعمان علی خان کا کہنا تھا کہ شدت پسند حلقے اقلیتوں سے متعلق جن قرآنی احکامات کا حوالہ دیتے ہیں وہ صرف پیغمبرِ اسلام کے لیے مخصوص تھے جو موجودہ حالات میں لاگو نہیں ہوتے۔

انہوں نے پاکستان میں مبینہ طور پر ہندو لڑکیوں کے زبردستی قبولِ اسلام اور ان کی شادیوں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام صرف تبلیغ اور حسنِ سلوک کے ذریعے تبدیلیٔ مذہب کی اجازت دیتا ہے۔

پروگرام میں ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے اقلیتی رکنِ اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اپنی 11 اگست کی تقریر میں ملک میں اقلیت اور اکثریت کے تصور کو ختم کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں اس وقت اقلیتوں کا تناسب پانچ سے چھ فی صد ہے اور پاکستان میں ان کے لیے مشکل وقت کا آغاز سابق فوجی صدر جنرل ضیا الحق کے دور میں ہوا۔

ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ اس وقت اقلیتوں کا سب سے بڑا مسئلہ بالجبر تبدیلئ مذہب کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بذاتِ خود ناموسِ رسالت کے قانون کے حامی ہیں لیکن اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ اس کا غلط استعمال روکا جاسکے۔

پروگرام میں شریک احمدیہ کمیونٹی کی ترجمان عائشہ نور کا کہنا تھا کہ پاکستان میں احمدیوں کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں جن کے حل کی جانب کسی کی توجہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 1974ء میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد سے احمدی ایک مشکل وقت گزار رہے ہیں اور گو کہ ان کے حق میں بعض آوازیں اٹھتی ہیں لیکن شدت پسندوں کے پرزور بیانیے کے باعث ان کا اثر نہیں رہتا۔

عائشہ نور کا کہنا تھا کہ احمدیوں کو پاکستان میں ہر سطح پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انہیں حکومت سے صرف اتنی توقع ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

پاکستان کے صوبے سندھ میں آباد ہندوؤں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن کرشن شرما کا پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانون سازی حکومت کی ترجیحات میں نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہندو اس ملک کے شہری ہیں لیکن ان کے پرسنل لا پر پیش رفت انتہائی سست رفتاری سے کی جارہی ہے جس کے لیے بھی ہندو برادری کو سخت محنت کرنا پڑی ہے۔

مکمل پروگرام ٘منسلک ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے۔

XS
SM
MD
LG