رسائی کے لنکس

بھارت :تھری ڈی موبائل فون سروسز کے لائسنسوں کی نیلامی

  • اینجنا پسریچیا

بھارت میں جلد ہی تیسری نسل یاتھری ڈی وائرلس فونز کے لائسنسوں کی نیلامی ہونے والی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی موبائل فونز کو انٹرنیٹ پر بڑے پیمانےکی رسائی فراہم کرکے ایک نیا آن لائن انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ بھارت میں اس وقت آبادی کی ایک محدود تعداد کو کمپیوٹر کی سہولت حاصل ہے۔بھارتی حکومت یہ توقع کررہی ہے کہ اس نیلامی سے اسے 10 ارب ڈالر حاصل ہوسکتے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں ٹیلی مواصلات کی نو کمپنیوں نے وائرلس نیٹ ورکس کی نیلامی کے لیے بولیاں دی ہیں۔ ان نئے وائرلس نیٹ ورکس کے ذریعے ڈیٹا کی منتقلی تیز تررفتار کے ساتھ ممکن ہوسکے گی۔

طویل عرصے سے بھارت میں تھری ڈی موبائل فونز ٹیکنالوجی کے لائسنسوں کی نیلامی کا بڑی شدت کے ساتھ انتظار کیا جارہاتھا ۔ بھارت ایک ایسا ملک ہے جسے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک مرکز سمجھا جاتا ہے مگردوسری جانب اس ملک میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جنہیں ابھی تک انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

ٹیلی کام امور سے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیجٹل ڈیٹا کی تیز رفتار منتقلی کا عمل شروع ہونے سے ان لوگوں کو بڑی سہولت ملے گی جن کے پاس کمپیوٹر نہیں ہیں ، اور اب وہ موبائل فون کے ذریعے انٹرنیٹ پر جاسکیں گے۔

ایک مشاورتی کمپنی ’ Analysys Mason ‘کے بھارت کے لیے ڈائریکٹرکونیل بجاج کہتے ہیں کہ موبائل فونز رکھنے والوں کے پاس اس وقت اپنے فون کے ذریعے ڈیٹا بھیجنے اور وصول کرنے کی سہولت کی سطح بڑی محدود ہے۔ مگر تھری ڈی سروس شروع ہونے سے انہیں ڈیٹا کی ترسیل کے سلسلے میں انٹرنیٹ پر زیاد بہتر اور زیادہ جدید سہولتیں حاصل ہوجائیں گی۔

وہ کہتے ہیں کہ بھارت اپنے ملک میں لوگوں کی اکثریت موبائل فون کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولت پہنچانے کی سمت بڑھ رہاہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت پڑھی لکھی مارکیٹ میں جو کام کمپیوٹروں اور لیپ ٹاپ کے ذریعے ہورہے ہیں ، مثلاً بینکاری، خریداری یا مختلف ڈیٹا کی ترسیل وغیرہ، اب وہ سب کام ایک عام بھارتی اپنے موبائل فون کے ذریعے کرنے جارہاہے۔

بھارت اس وقت دنیا بھر میں موبائل فونز کی دوسری سب سے بڑی منڈی ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق 55 کروڑ صارف موجود ہیں اور یہ مارکیٹ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں مزید لاکھوں افراد ، خاص طور پر دور دراز کے دیہی علاقوں میں رہنے والے، متوقع طورپر موبائل فون کے نئے صارف ہوں گے۔

کامیاب بولی دہندگان کو اس سال ستمبر کے مہینے سے تجارتی بنیادوں پر موبائل فون کی تھری ڈی سروس فراہم کرنے کی اجازت مل جائے گی۔بجاج کہتے ہیں کہ یہ سروسرز آبادی کے ایک بڑے حصے میں زندگیوں میں ایک نمایاں تبدیلی لائیں گی۔

وہ کہتے ہیں چونکہ بھارت کی منقسم سماجی معیشت میں ایک بڑا خلا موجود ہے، جسے اب آپ نچلی سطح پر بھرنے جارہے ہیں۔ اس کے ذریعے آپ سماجی معیشت کے نچلے طبقوں کو بااختیار بنائیں گے، کیونکہ آپ انہیں تجارت، تعلیم، سرکاری خدمات اور اطلاعات تک رسائی فراہم کریں گے اور آپ انہیں اس قابل بنائیں گے کہ وہ اپنی زندگیوں میں پہلی بار کوئی حقیقی تبدیلی لاسکیں۔ اور اس طرح آپ تبدیلی ایک ایسا کردار نبھانے جارہے ہیں جو معاشروں میں ایک توازن لائے گا۔

تھری ڈی موبائل فون سروسز کے لائسنسوں کی بولی سے حکومت کو وہ رقوم بھی حاصل ہوں گی جس کی اسے اشدضرورت ہے۔ اندازوں کے مطابق اس بولی سے 10 ارب ڈالر تک حاصل ہوسکتے ہیں ،یہ نئے اعدادوشمار، 8 ارب ڈالر کے ابتدائی جائزوں سے زیادہ ہیں۔ اس رقم سے حکومت کو اپنا مالی خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG