رسائی کے لنکس

بھارت میں حالیہ عرصے میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد کئی سماجی حلقوں کی طرف سے اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

بھارت کی ایک عدالت نے جمعہ کو گزشتہ سال ایک کال سنٹر میں کام کرنے والی لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کرنے والے چار افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

استغاثہ کے وکیل نکم اجول نے کہا ہے کہ ممبئی کی عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزا وہ ہے جو اس مقدمے میں زیادہ سے زیادہ سزا ہو سکتی ہے۔

اجتماعی آبروریزی کے ایک دوسرے مقدمے میں ایک خاتون صحافی کی ممبئی ہی میں اجتماعی آبروریزی کرنے والے چار میں سے تین مجرموں کو سزا سنائی جانی ابھی باقی ہے۔

نکم نے کہا کہ وہ عدالت سے درخواست کریں گے کہ ان تینوں کو سزاے موت دی جائے کیونکہ بقول ان کے یہ تینوں عادی ملزم ہیں۔

جنسی زیادتی کے چوتھے ملزم کو پہلے ہی عمر قید کا سامنا ہے۔

خاتون صحافی سے اجتماعی زیادی کرنے والوں کو سزا جمعہ کو سنائی جانے کا امکان تھا لیکن اب یہ سزا سوموار کو سنائی جائے گی۔

خاتون صحافی کی اجتماعی آبروریزی کے مقدمے میں شریک پانچویں ملزم کی عمر 18 سال سے کم ہونے کی وجہ سے اس کا مقدمہ بچوں کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

بھارت میں حالیہ عرصے میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد معاشرے کے کئی حلقوں کی طرف سے اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

بھارت میں اجتماعی آبروریزی کے بارے میں خبریں سامنے آنے کے بعد جس میں ایک واقعے میں ایک طالبہ کی ہلاکت بھی ہو گئی تھی ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گیے اور جس میں قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرنے اور خواتین کو ہراساں کرنے اور ان پر حملے کرنے والے مردوں کے لیے سخت سزا کا مطالبہ کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG