رسائی کے لنکس

بھارت: مطلوب افراد کی فہرست میں غلطی کا اعتراف


بھارت: مطلوب افراد کی فہرست میں غلطی کا اعتراف

بھارت کی جانب سے پاکستان کو فراہم کردہ 50 مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل ایک ملزم کے بھارت میں رہائش پذیر ہونے کے انکشاف کے بعد بھارتی حکام کو خفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بھارتی میڈیا میں حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی فہرست میں شامل وصول قمر خان نامی ملزم ایک مقامی عدالت کی جانب سے ضمانت پر رہائی پانے کے بعد اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ضلع تھانے میں مقیم ہے۔

بھارت کی جانب سے پاکستان کو فراہم کردہ 50 مطلوب ترین افراد کی فہرست میں قمر خان کا نام 41 ویں نمبر پر درج تھا۔ بھارت کے دعویٰ کے مطابق یہ تمام 50 افراد مبینہ طور پر پاکستان میں روپوش ہیں اور بھارتی حکومت نے پاکستان سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ قمر خان بھارت میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں ملوث ہے۔ تاہم سامنے آنے والے حقائق کے مطابق قمرخان کو بھارتی پولیس نے گزشتہ برس مئی میں گرفتار کیا تھا جس کے بعد ایک مقامی عدالت کے حکم پراسے ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا جس کے بعد سے وہ نئی دہلی میں رہائش پذیر ہے۔

بھارت کی جانب سے مذکورہ فہرست پاکستان کو رواں برس مارچ کے مہینے میں پیش کی گئی تھی جسے گزشتہ ہفتے میڈیا کی جانب سے جاری کردیا گیا تھا۔ بھارتی فہرست میں کئی مبینہ دہشت گرد راہنماؤں اور پاکستان کے فوجی افسران کے نام بھی موجود ہیں۔

بھارت کے وزیرِداخلہ پی چدم برم نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کو فراہم کردہ فہرست میں موجود ’غلطی‘ کی ذمہ داری تسلیم کرتا ہے۔ ان کےبقول فہرست میں غلط نام کا اندراج سینٹرل بیورو آف انٹیلی جنس اور ممبئی پولیس کے مابین رابطوں کے فقدان کے باعث ہوا۔

پاکستان کو فراہم کردہ مطلوب بھارتی افراد کی فہرست میں غلط اندراج کا انکشاف ہونے کے بعد بھارتی حکام نے قمر خان کا نام فہرست سے خارج کردیا ہے۔

کالعدم پاکستانی تنظیم 'لشکرِ طیبہ' کےبانی اور بھارتی دعویٰ کے مطابق 2008ء کے ممبئی حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ حافظ محمد سعید کا نام بھارت کو مطلوب افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر درج ہے۔

معروف بھارتی اسمگلر داؤد ابراہیم کا نام بھی فہرست میں موجود ہے جس کے بارے میں بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان میں روپوش ہے۔ تاہم پاکستان اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔

XS
SM
MD
LG