رسائی کے لنکس

بھارت اور افغانستان کے درمیان دفاعی تعاون پر طالبان کے ’تحفظات‘


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دفاعی تجزیہ کار لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کہتے ہیں کہ افغانستان کی حکومت کسی بھی ملک کے ساتھ دفاع کے شعبے میں تعاون کو وسعت دے سکتی ہے اور اس راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیئے۔

افغان طالبان کے ترجمان نے ایک بیان میں افغانستان کی حکومت اور بھارت کے درمیان فوجی تعاون پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے ذرائع ابلاغ کے نام بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا کہ اُن کی تنظیم چاہتی ہے کہ بھارت افغانستان کو نا تو فوجی سامان فروخت کرے اور نا ہی کابل انتظامیہ سے اس شعبے میں تعاون کو وسعت دے۔

بھارت کی طرف سے حال ہی میں افغانستان کو روسی ساخت کے چار ’ایم آئی 25‘ ہیلی کاپٹر فراہم کیے گئے تھے اور اس کا مقصد دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں افغان فورسز کی استعداد کار کو بڑھانا تھا۔

افغان طالبان کا الزام ہے کہ صوبہ قندوز اور دیگر علاقوں میں اُن کے خلاف کارروائیوں میں افغانستان کی فورسز بھارت کی طرف سے فراہم کردہ ہیلی کاپٹر استعمال کر رہی ہیں۔

طالبان کے ترجمان کے بیان پر فوری طور پر نا تو افغانستان اور نا ہی بھارت کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے آیا۔

بھارت اور افغانستان کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں نمایاں بہتری آئی اور دفاع کے شعبے کے علاوہ اقتصادی شعبوں میں بھی بھارت افغانستان سے تعاون کر رہا ہے۔

گزشتہ ماہ کے اواخر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وڈیو لنک کے ذریعے افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ہمراہ کابل میں تباہ شدہ دارالامان محل کی بحالی کے منصوبے کا افتتاح کیا تھا جب کہ اس سے قبل سلمیٰ ڈیم اور افغان پارلیمان کی نئی عمارت کا افتتاح بھی کیا گیا تھا، یہ منصوبے بھارت کے مالی تعاون سے مکمل کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ طالبان نے ملک میں اپنی پرتشدد کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں اور ملک کے مختلف علاقوں میں طالبان جنگجوؤں کے زیر قبضہ علاقوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

Afghanistan

Afghanistan

دفاعی تجزیہ کار لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کہتے ہیں کہ افغانستان کی حکومت کسی بھی ملک کے ساتھ دفاع کے شعبے میں تعاون کو وسعت دے سکتی ہے اور اس راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیئے۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کے حالیہ بیان سے اس بات کا خدشہ بڑھ گیا کہ طالبان اب افغانستان میں بھارت کے مفادات کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

’’دیکھیں ویسے تو افغانستان کی جو اس وقت حکومت موجود ہے وہ جس سے چاہے اسلحہ لے، کوئی کسی کی پابندی نہیں ہے لیکن طالبان چونکہ وہاں پر جنگ لڑ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ افغان حکومت کو مستحکم کیا جا رہا ہے اور طالبان کے لیے وہاں پر مشکلات ہوں گی تو اس میں جو خطرات ہیں وہ بھارت کے لیے لازماً موجود ہیں ۔۔۔۔ اب طالبان تو چونکہ گوریلا جنگ کر رہے ہیں بھارت کے جو مفادات ہیں کل کو ہو سکتا ہے کہ اس کے خلاف بھی وہ کام کریں۔‘‘

دریں اثنا افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمار نے ریڈیو فری یورپ، قندھار سے ایک انٹرویو میں کہا کہ طالبان کے خلاف علاقائی ممالک کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔

حال ہی میں ایسی بھی اطلاعات آئیں کہ افغانستان میں ’داعش‘ کے شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے ایران اور روس نے طالبان سے رابطے کی کوششوں پر غور کیا ہے۔ ان اطلاعات پر حنیف اتمار کا کہنا تھا کہ وہ علاقائی ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ اُنھیں طالبان کے ساتھ کام کرنے سے روکا جا سکے۔

افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان سے اُن کے ملک کو کوئی توقع نہیں ہے۔

اس سے قبل بھی افغان قیادت کی طرف سے ایسے بیانات سامنے آ چکے ہیں۔

پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ وہ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے پڑوسی ملک سے ہر ممکن تعاون کو تیار ہے۔ تاہم پاکستانی عہدیداروں کا موقف ہے کہ امن کا حصول وقت طلب عمل ہے جس کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG