رسائی کے لنکس

ممبئی کے دوسرے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر کا جلد امکان

  • کرٹ ایچن
  • جمیل اختر

.

.

ممبئی کا موجودہ ہوائی اڈا، چھاتراپاتی شیواجی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہرسال تقریباً چارکروڑ مسافروں کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔فضائی ٹریفک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ہوائی اڈے کو لگ بھگ مسافروں کے اس پورے بوجھ کاسامنا ہے۔

بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی میں دوسرے بین الاقوامی ایئرپورٹ کی تعمیر شروع ہونے والی ہے۔ یہ پراجیکٹ ماحول سے متعلق خدشات کے باعث عرصے سےالتوا میں پڑا ہواتھا۔مجوزہ ایئر پورٹ عالمی منظر نامے پر ابھرتی ہوئی ایک اقتصادی قوت کے انفراسٹرکچر اور ماحولیاتی توازن کی بڑھتی ہوئی ضروریات میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوسکتا ہے۔

پیر کے روز بھارت کے ایک اہم ترین تجارتی مرکز ممبئی کے لیے دوسرے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر کے منصوبے پر ماحولیات کے بھارتی وزیر جے رام رامیش کی جانب سے برسوں کی گفت وشنید کے بعد منظر عام پر آنے والےاعلان کوایک اہم پیش رفت کے طورپر دیکھا جارہاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مذاکرات کیے ، افہمام وتفہیم سے کام لیا ، اور سمجھوتے کیے جس کا نتیجہ ممبئی کے لیے ایک ایسے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی شکل میں نکل رہاہے جو ماحولیاتی طورپر محفوظ ہوگا اورجس سے توانائی کی بچت ہوگی۔

ممبئی بھارتی ریاست مہاراشٹر کا دارالحکومت ہے اور اسے دنیاکی ابھرتی ہوئی معاشی قوت کے ایک شہری مرکز کے طورپر دیکھا جاتا ہے۔ اس ماہ بھارت کے اپنے دورے کے موقع پر یہ شہر امریکی صدر براک اوباما کی پہلی منزل بنا تھا۔

ممبئی کا موجودہ ہوائی اڈا، چھاتراپاتی شیواجی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہرسال تقریباً چارکروڑ مسافروں کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔فضائی ٹریفک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ہوائی اڈے کو لگ بھگ مسافروں کے اس پورے بوجھ کاسامنا ہے۔

دوسرا مجوزہ ہوائی اڈا’’ نیوی ممبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ‘‘ شہر کے مرکز سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر بنایا جارہاہے۔ منصوبے کے مطابق اسے اگلے سال کھول دیا جاناتھا۔ لیکن یہ ہدف کئی ماحولیاتی خدشات کے باعث تاخیر کی نذر ہوگیا ، جن میں سے سب سے بڑا مسئلہ قریب بہنے والے دریائے گادھی کے رخ موڑنے کا تھا۔ رامیش کا کہناہے کہ اس مسئلے کو مجوزہ ایئرپورٹ کے ڈیزائن میں تبدیلی کے ذریعے حل کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ماحولیاتی نقطہ نظر کے پیش نظر دریائے گادھی کا رخ نہیں موڑا جائے گا۔ اور میرا خیال ہے کہ اس مسئلے کے حل میں ہم سوفی صد کامیاب رہے ہیں۔

رامیش کا کہنا ہے کہ کچھ مفاہمتیں ضروری تھیں۔ تاہم طیاروں کو آسانی کے لیے اس جگہ کےقریب واقع ایک90 میٹر بلند پہاڑی کووہا سے ہٹانا پڑے گا۔

کچھ لوگ یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ آیا حکومت مجوزہ ہوائی اڈے کے علاقے میں کئی سوکلومیٹر پرپھیلے ہوئے چمرنگ کے جنگلات کو محفوظ رکھنے کے اپنے وعدے پر قائم رہ سکے گی۔

ماحولیات سے متعلق بھارتی وزارت نے جنگلات کے تحفظ کے تحت تعمیراتی ٹھیکداروں کے لیے 32 شرائط رکھی ہیں اور رامیش کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت اس منصوبے پر عمل کے لیے اب پوری طرح تیار ہے۔

XS
SM
MD
LG